خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 134
خلافة على منهاج النبوة ۱۳۴ جلد اول گاڑی والے کو کہا کہ گاڑی دوڑاؤ اور جلد پہنچاؤ۔اُسی وقت نواب صاحب کو وہ رؤیا یاد آ گئی اور آپ نے کہا کہ وہ رویا پوری ہوگئی۔یہ رویا ہستی باری کا ایک ایسا زبر دست ثبوت ہے کہ سوائے کسی ایسے انسان کے جو شقاوت کی وجہ سے صداقت نہ ماننے سے بالکل انکار کر دے ایک حق پسند کے لئے نہایت رشد اور ہدایت کا موجب ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے فیصلہ سے بچنے کی لاکھ کوشش کرے تقدیر پوری ہو کر ہی رہتی ہے میں نے جس خوف سے لا ہور کا سفر ملتوی کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ امر قادیان ہی میں پورا ہوا۔: حضرت کی وفات اور میری خلافت قریبا تین چار سال کا عرصہ ہوا جو میں نے دیکھا کہ میں اور حافظ روشن علی کے متعلق آٹھویں آسمانی شہادت صاحب ایک جگہ بیٹھے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے گورنمنٹ برطانیہ نے افواج کا کمانڈر ان چیف مقررفرمایا ہے اور میں سرا و مور کرے سابق کمانڈر ان چیف افواج ہند کے بعد مقرر ہوا ہوں اور ان کی طرف سے حافظ صاحب مجھے عہدہ کا چارج دے رہے ہیں۔چارج لیتے لیتے ایک امر پر میں نے کہا کہ فلاں چیز میں تو نقص ہے میں چارج میں کیونکر لے لوں؟ میں نے یہ بات کہی ہی تھی کہ نیچے کی چھت پھٹی ( ہم چھت پر تھے ) اور حضرت خلیفہ امسیح خلیفہ اول اس میں سے برآمد ہوئے اور میں خیال کرتا ہوں کہ آپ سر او مور کرے کمانڈر ان چیف افواج ہند ہیں آپ نے فرمایا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ لارڈ کچنر (KITCHENER) سے مجھے چیز اسی طرح ملی تھی۔اس رویا پر مجھے ہمیشہ تعجب ہوا کرتا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ اور میں اپنے دوستوں کو سنا کر حیرت کا اظہار کیا کرتا تھا کہ اس خواب سے کیا مراد ہوسکتی ہے ؟ مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ واقعات کے ظہور پر معلوم ہوا کہ یہ رویا ایک نہایت ہی زبردست شہادت تھی اس بات پر کہ حضرت خلیفہ اسیح کی وفات کے بعد جو فیصلہ ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضا کے ماتحت ہوا ہے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی وفات پر میری طبیعت اس طرف گئی کہ