خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 121
۱۲۱ جلد اول خلافة على منهاج النبوة ،، کے دعا کے عرض کرنے پر صبح کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سنایا تھا کہ میں نے آپ کے لئے دعا کی تھی اور مجھے یہ الہام ہوا ہے شَرُّ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ( ترجمه ) شرارت ان لوگوں کی جن پر تو نے انعام کیا۔" آج اگر اس فتنہ میں بعض وہ لوگ شامل نہ ہوتے جن پر حضرت صاحب انعام فرماتے تھے تو وہ الہام کیونکر پورا ہوتا خصوصاً وہ شخص کہ جس کو مخاطب کر کے آپ نے اپنا یہ الہام سنایا۔(۵) ایک ۱۳/ مارچ ۱۹۰۷ء کا الہام ہے ۱۳؍ مارچ کو ہی حضرت خلیفہ اسیح الاوّل فوت ہوئے۔۱۳/ مارچ کو ہی لاہور سے ٹریکٹ شائع ہوا۔اگر یہ ٹریکٹ شائع نہ ہوتا تو یہ الہام کہ لاہور میں ایک بے شرم ہے ، کس طرح پورا ہوتا۔(1) کہتے ہیں پہلے ہمیں نیک کہا جاتا تھا اب کیوں بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ انسان کی حالت بدلتی رہتی ہے۔نیک بد اور بد نیک ہو جاتے ہیں مبارک انسان وہی ہے جس کا انجام بخیر ہو۔پھر اگر اس فتنہ میں بعض لوگ شامل نہ ہوتے جن کو ہم پہلے صالح سمجھا کرتے تھے اور جن کے نیک ارادے ہوا کرتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کشف کہ آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو رویا میں کہا۔آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ کیونکر پورا ہوتا۔(۷) پھر اگر کوئی لاہور میں ۱۹۰۹ء میں لاہور کی جماعت کو جمع کر کے ان سے اس بات کے لئے انگوٹھے نہ لگواتا اور دستخط نہ کروا تا کہ خلیفہ المسیح کا کوئی دخل نہیں ہے اصل خلیفہ انجمن ہی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ رویا کس طرح پورا ہوتا کہ چھوٹی مسجد کے او پر تخت بچھا ہوا ہے اور میں اُس پر بیٹھا ہوا ہوں اور میرے ساتھ ہی مولوی نورالدین صاحب بھی بیٹھے ہوئے ہیں ایک شخص ( اس کا نام ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ) دیوانہ وار ہم پر حملہ کرنے لگا۔میں نے ایک آدمی کو کہا کہ اس کو پکڑ کر مسجد سے نکال دو۔اور اس کو سیڑھیوں سے نیچے اُتار دیا ہے۔وہ بھاگتا ہوا چلا گیا۔اور یادر ہے کہ مسجد سے مراد جماعت ہوتی ہے۔(۸) پھر میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے دوران میں اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے