خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 110

خلافة على منهاج النبوة 11۔جلد اول ہیں۔میں نے پوچھا یہ اس نے کیوں کہا ؟ تو اس نے جواب دیا کہ وہ کہتا ہے کہ اس وقت مولوی محمد علی بولنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے ان کو بولنے نہیں دیا گیا جس سے ان کی ہتک ہوئی ہے اُس وقت مجھے اس بات کا علم ہوا اور اگر اُسی وقت مجھے علم ہو جاتا تو میرا کیا حق تھا کہ میں کسی کو روک دیتا اور ایسا نہ کرنے دیتا اور لوگوں کو مجھ سے اُس وقت کون سا تعلق تھا جس کی وجہ سے وہ میری بات ماننے کے لئے تیار ہو جاتے۔اُس وقت تک تو کوئی شخص جماعت کا امام مقرر نہ ہوا تھا۔اس کے بعد ایک اور واقعہ ہوا اور وہ یہ کہ میں نے سنا کہ مولوی محمد علی ایک اور واقعہ صاحب قادیان کو چھوڑ کر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔میں نے اُنہیں لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہاں سے جانا چاہتے ہیں آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ اپنی تکلیف مجھے لکھیں کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟ میں نے لکھ کر ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب کو دیا کہ آپ ان کے پاس لے جائیں۔میں نے کسی ملازم وغیرہ کے ہاتھ خط دے کر اس لئے نہ بھیجا تا کہ وہ یہ نہ کہیں کہ کسی اور آدمی کے ہاتھ خط بھیجنے سے میری ہتک ہوئی ہے۔ڈاکٹر صاحب کو میں نے یہ بھی کہا کہ آپ جا کر ان سے پوچھیں کہ آپ یہاں سے کیوں جاتے ہیں؟ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔اس کا جواب یہ دیا گیا کہ بھلا ہم قادیان کو چھوڑ کر کہیں جا سکتے ہیں ؟ آپ کو معلوم ہی ہے کہ میں نے چھٹی لی ہوئی ہے اسے پورا کرنے کے لئے جاتا ہوں۔جواب کے آخر میں یہ بھی لکھا تھا کہ میرے جانے کی یہ وجہ بھی ہے کہ آجکل چونکہ بعض طبائع میں جوش ہے اس لئے میں نے خیال کیا ہے کہ کچھ عرصہ باہر رہوں تا کہ جوش کم ہو جائے ایسا نہ ہو پٹھانوں میں سے کوئی جوش میں مجھ پر حملہ کر بیٹھے۔لیکن اس خط میں زیادہ تر زور اس بات پر دیا گیا تھا کہ ہم قادیان چھوڑ کر کہاں جا سکتے ہیں ؟ میں تو چھٹی کے ایام باہر گزارنے کے لئے جاتا ہوں۔اس کے بعد میں ان سے ملنے کے لئے اُن کے گھر گیا۔میرے ساتھ نواب صاحب بھی تھے۔جب ہم ان کے پاس جا کر بیٹھے تو کچھ اِدھر اُدھر کی باتیں ہوئیں۔ترجمہ قرآن کے متعلق کچھ گفتگو ہوئی۔پھر ڈاکٹر صاحب نے اصل مطلب کی طرف کلام کی رو پھیرنے کے لئے کہا کہ میاں صاحب آپ کے