خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 90

خلافة على منهاج النبوة جلد اول امیدیں بہت بڑی ہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ معجزانہ طور پر کوئی طاقت دکھائے گا۔لیکن یہ عالم اسباب ہے اس لئے مجھ کو اسباب سے کام لینا چاہیے۔میں جو کچھ کروں گا خدا تعالیٰ کے خوف سے کروں گا۔اس بات کی مجھے پرواہ نہ ہوگی کہ زید یا بکر اس کی بابت کیا کہتا ہے پس میں پھر کہتا ہوں کہ اگر میں خدا سے ڈر کر کرتا ہوں، اگر میرے دل میں ایمان ہے کہ خدا ہے تو پھر میں نیک نیتی سے کر رہا ہوں جو کچھ کرتا ہوں اور کروں گا۔اور اگر میں نَعُوذُ باللہ خدا سے نہیں ڈرتا تو پھر تم کون ہو کہ تم سے ڈروں پس میں تم سے مشورہ پوچھتا ہوں کہ کیا تجویز ہوسکتی ہے کہ ان وقتوں کو رفع کیا جائے؟ لوگ کہتے ہیں کہ کبھی خلیفہ نے انجمنکو کوئی حکم نہیں دیا مگر میں سیکرٹری کے دفتر پر کھڑا ہوں بہت ہی کم کوئی ایجنڈا نکلا ہو گا جس میں بحکم خلیفہ امسیح نہ لکھا ہو۔یہ واقعات کثرت سے موجود ہیں اور انجمن کی روئدادیں اور رجسٹر اس شہادت میں موجود ہیں ( اس مقام پر منشی محمد نصیب صاحب ہیڈ کلرک دفتر سیکرٹری کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے یہ آواز بلند کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں یہ بالکل درست ہے ) اس قسم کے اعتراض تو فضول ہیں جو واقعات کے خلاف ہیں۔غرض اس وقت کچھ وقتیں پیش آئی ہیں اور آئندہ اور ضرورتیں پیش آئیں گی۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ احباب غور کریں۔میں نے اس موجودہ اختلاف کے متعلق کچھ تجاویز سوچی ہیں ان پر غور کیا جائے اور مجھے اطلاع دی جائے۔میری غیر حاضری میں آپ لوگ ان پر غور کریں تا کہ ہر شخص آزادی سے رائے دے سکے۔اوّل: خلیفہ اور انجمن کے جھگڑے نپٹانے کی بہتر صورت کیا ہے۔انجمن سے یہ مراد ہے انجمن کے وہ ممبر جنہوں نے بیعت نہیں کی وہ اپنے آپ کو انجمن کہتے ہیں اس لئے میں نے انجمن کہا ہے صرف مبائعین رائے دیں۔دوم : جن لوگوں نے میری بیعت کر لی ہے میں انہیں تاکید کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کا چندہ میری معرفت دیں۔یہ تجویز میں ایک رؤیا کی بناء پر کرتا ہوں جو ۱۸ مارچ ۱۹۰۷ ء کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے ان کی اپنی کا پی الہامات میں