خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 86
خلافة على منهاج النبوة ۸۶ جلد اول معترض کو کہتا ہوں کہ اب میں مخاطب ہوں۔اگر اُس وقت یہ جواب سچا تھا اور ضر ور سچا تھا تو یہ بھی درست ہے جو میں کہتا ہوں۔اگر تمہارا اعتراض درست ہو تو اس پر قرآن مجید سے بہت سے احکام تم کو نکال دینے پڑیں گے اور یہ کھلی کھلی ضلالت ہے۔ایک عجیب بات میں تمہیں ایک اور عجیب بات سناتا ہوں جس سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں تفاوت نہیں ہوتا۔اشتہا رسبز میں میرے متعلق خدا کے حکم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بشارت دی۔خدا کی وحی سے میرا نام اولوالعزم رکھا۔اور اس آیت میں فرمایا فاذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے اس آیت پر عمل کرنا پڑے گا پھر میں اس کو کیسے رڈ کرسکتا ہوں۔کیا خدمت کی ہے؟ پھر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اس نے کیا خدمت کی ہے؟ اس سوال کا حل تو اسامہ والی بات ہی میں موجود ہے۔اسامہ کی خدمات کس قدر تھیں کہ وہ بڑے بڑے صحابہ پر افسر مقرر کر دیا گیا۔خلافت تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے ہاں اس کا یہ فعل نَعُوذُ بِاللهِ لغو نہیں ہوتا۔پھر خالد بن ولید، ابو عبیدہ ، عمرو بن العاص ، سعد بن الوقاص اُنہوں نے جو خدمات کیں ان کے مقابلہ میں حضرت عمرؓ کیا خدمات پیش کر سکتے ہیں مگر خلیفہ تو حضرت عمرؓ ہوئے۔وہ نہ ہوئے خدا تعالیٰ سے بہتر اندازہ کون لگا سکتا ہے۔آیت استخلاف میں نے آیت استخلاف پر غور کیا ہے اور مجھے بہت ہی لطیف معنی آیت استخلاف کے سمجھائے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے بڑا مزا آیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وليبة لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَنْ كَفَرَ بعد ذلك فأوليكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ٣٩