خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 83

خلافة على منهاج النبوة ۸۳ جلد اول مانتے نہیں تو کیوں پوچھتے ہیں؟ اس لئے کہ شائد کوئی بہتر بات معلوم ہو۔پس مشورہ سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس پر ضرور کار بند ہوں بلکہ یہ غرض ہوتی ہے کہ ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کے خیالات سن کر کوئی اور مفید بات معلوم ہو سکے۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فاذا عزمت فتوكل على الله مشورہ لینے والا مخاطب ہے اگر فیصلہ مجلس شوریٰ کا ہوتا تو یوں حکم ہوتا کہ فَإِذَا عَزَمْتُمْ فَتَوَكَّلُوا عَلَ الله اگر تم سب لوگ ایک بات پر قائم ہو جاؤ تو اللہ پر توکل کر کے کام شروع کر دو۔مگر یہاں صرف اس مشورہ کرنے والے کو کہا کہ تُو جس بات پر قائم ہو جائے اُسے تَوَكُلاً عَلَى اللهِ شروع کر دے۔دوسرے یہاں کسی کثرتِ رائے کا ذکر ہی نہیں بلکہ یہ کہا ہے کہ لوگوں سے مشورہ لے یہ نہیں کہا کہ اُن کی کثرت دیکھ اور جس پر کثرت ہو اُس کی مان لے یہ تو لوگ اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں قرآن کریم میں کہیں نہیں کہ پھر ووٹ لئے جائیں اور جس طرف کثرت ہو اُس رائے کے مطابق عمل کرے بلکہ یوں فرمایا ہے کہ لوگوں سے پوچھ ، مختلف مشوروں کو سن کر جس بات کا تو قصد کرے (عزمت کے معنی ہیں جس بات کا تو پختہ ارادہ کرے ) اُس پر عمل کر اور کسی سے نہ ڈر بلکہ خدا تعالیٰ پر تو کل کر۔عجیب نکته و شاد رحم کے لفظ پر غور کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشورہ لینے والا ایک ہے دو بھی نہیں اور جن سے مشورہ لینا ہے وہ بہر حال تین یا تین سے زیادہ ہوں۔پھر وہ اس مشورہ پر غور کرے پھر حکم ہے عَزَمْتَ فَتَوَكَّلُ عَل الله جس بات پر عزم کرے اُس کو پورا کرے اور کسی کی پرواہ نہ کرے۔حضرت ابو بکر کے زمانہ میں اس عزم کی خوب نظیر ملتی ہے۔جب لوگ مرتد ہونے لگے تو مشورہ دیا گیا کہ آپ اس لشکر کو روک لیں جو اسامہ کے زیر کمانڈ جانے والا تھا۔مگر اُنہوں نے جواب دیا کہ جو لشکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے میں اسے واپس نہیں کر سکتا۔ابو قحافہ کے بیٹے کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔پھر بعض کو رکھ بھی لیا چنانچہ حضرت عمرؓ بھی اسی لشکر میں جا رہے تھے اُن کو روک لیا گیا۔