خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 91 of 267

خزینۃ الدعا — Page 91

خَزِينَةُ الدُّعَاءِ 40 مناجات رسُول الله میدانِ عرفات میں تفرع اور ابتہال سے بھری دُعا حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم نے عرفات کی شام یہ دُعا کی تھی :۔اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِي وَ تَرى مَكَانِی وَ تَعْلَمُ سِرِّى وَ عَلَانِيَتِى لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْء مِّنْ أَمْرِى وَأَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيْرُ الْمُسْتَغِيْتُ الْمُسْتَجِيرُ الْوَجلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِهِ أَسْأَلُكَ مَسْئَلَةَ الْمِسْكِيْنِ وَأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ ابْتِهَالَ الْمُذْنِبِ الدَّلِيلِ وَادْعُوْكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيرِ مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقْبَتُهُ وَفَاضَتْ لَكَ عَبْرَتُهُ وَذَلَّ لَكَ جِسْمُهُ وَرَغِمَ لَكَ أَنْفُهُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بِدُعَائِكَ شَقِيًّا وَكُنْ بِي رَوُوْفَارَ حِيْمَايَا خَيْرَ الْمَسْئُولِيْنَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ مجمع الزوائد دیشی جلد ۳ صفحه۵۶۰ - النجم الكبير اطبرانی جلدا اصفر ۱۷۴ ) ترجمہ:- اے اللہ تو میری باتوں کو سنتا ہے اور میرے حال کو دیکھتا ہے میری پوشیدہ باتوں اور ظاہر امور سے تو خوب واقف ہے۔میرے معاملہ میں سے کچھ بھی تو تجھ پر مخفی نہیں ہے۔میں ایک بد حال فقیر اور محتاج (ہی تو ) ہوں ، ( تیری ) مدد اور پناہ کا طالب، انتہائی سہا اور ڈرا ہوا، اپنے گناہوں کا اقراری اور اعتراف کرنے والا۔میں تجھ سے ایک بے سہارا کی طرح سوال کرتا ہوں (ہاں ! ) تیرے حضور میں ایک ذلیل گناہگار کی طرح زاری کرتا ہوں۔ایک اندھے نابینے کی طرح ( ٹھوکروں سے ) خوف زدہ تجھ سے دعا کرتا ہوں۔جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہے اور آنسو تیرے حضور بہہ رہے ہیں۔اور جسم نے تیرے لیے ذلت اختیار کی ہے اور ناک خاک آلودہ ہے۔اے اللہ ! تو مجھے اپنے حضور دعا کرنے میں بد بخت نہ ٹھہرا دے اور مجھ پر مہربانی کرنے والا اور رحم کرنے والا ہو جا۔اے سوال کئے جانے والوں میں سب سے بہتر اور اے عطا فرمانے والوں میں سب سے بڑھ کر ! 92