خزینۃ الدعا — Page 256
ورو حزينَةُ الدُّعَاءِ 76 ادْعِيَةُ المَهْدِى میری حالت ایسی ہو جائے کہ (تیرے سوا) میں کسی کو کچھ نہ سمجھوں اور اس کی قیمت میرے نزدیک ایک کوڑی بھی نہ ہو۔آنکہ اور ابخلق کار نماند باز کارش بروزگار نماند ہاں مجھے ایسا بنادے کہ دنیا سے میرا کوئی کام ہی نہ رہے دنیا کیا زمانہ سے بھی کوئی کام نہ رہے۔که نیائید از و بروں گا ہے دايم الحبس شد دران چاہے میں تیری محبت کے چاہ میں ایسا اسیر ہو جاؤں کہ پھر اس سے کبھی باہر نہ نکل سکوں۔سیم وزرکن حقیر در نظرم فقر کن مطلب بزرگ ترم سیم وزر ( یعنی سونا چاندی) میری نظر میں حقیر کر دے۔میرا سب سے عظیم تر مقصد فقر کر دے۔آنچناں بخش عقل حق جویم کہ براہش بچشم مجھ کو وہ عقل عطا فرما جوحق ہو اور تیرے راستہ میں بسر و چشم آؤں۔شور ہمہ عشقت بریز در جانم و سر پویم و مجذوب ہم بگردانم میری جان میں اپنے عشق کی نمک ریزی فرما اور اس محبت میں مجھے مست و مجذوب کر دے۔مدح و ثنائے تو خواہم ہر چہ خواہم برائے تو خواہم میری خواہشوں کا منتہا تیری مدح وثنا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ میری جو بھی خواہش ہے وہ تیری رضا ہی کے لئے ہے۔تا مرا دل به تو حمد تو پیوست از همه کاروبار با بکست جب سے میر ادل آپ سے اور آپ کی محبت میں محو ہو گیا ہے دنیا اور اس کے ہر قسم کے کاروبار کو چھوڑ دیا۔سیرت حضرت مسیح موعود از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جلد پنجم صفحه ۵۳۵ تا ۵۳۷) 258