خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 198 of 267

خزینۃ الدعا — Page 198

حزينَةُ الدُّعَاءِ 18 ادْعِيَةُ المَهْدِى یو گوٹو امرتسر۔یعنی دس دن کے بعد روپیہ آئے گا۔خدا کی مددنزدیک ہے اور جیسے جب جننے کے لئے اونٹنی دم اُٹھاتی ہے تب اس کا بچہ جننا نزدیک ہوتا ہے ایسا ہی مد دائمی بھی قریب ہے۔دس دن کے بعد جب روپیہ آئے گا تب تم امرتسر بھی جاؤ گے۔سوئین اس پیشگوئی کے مطابق مذکورہ بالا آریوں کے رو بر وقوع میں آیا۔یعنے دس دن تک کچھ نہ آیا۔گیارہویں روز محمد افضل خان صاحب نے راولپنڈی سے ایک سو دس روپے بھیجے۔ہمیں روپے ایک اور جگہ سے آئے اور پھر برابر روپیہ آنے کا سلسلہ ایسا جاری رہا جس کی اُمید نہ تھی۔“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحه 57-258) خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر اعظم پٹیالہ کسی ابتلا اور فکر اور غم میں مبتلا تھے ان کی طرف سے متواتر دعا کی درخواست ہوئی۔اتفاقاً ایک دن یہ الہام ہوا۔چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج اس وقت مجھے یاد آیا کہ آج انہیں کے لئے دعا کی جائے۔چنانچہ دعا کی گئی اور تھوڑے عرصہ کے بعد انہوں نے ابتلاء سے رہائی پائی اور بذریعہ خط اپنی رہائی سے اطلاع دی۔“ ( نزول اسیح صفحه 225 ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 603) ایک دفعہ نواب علی محمد خاں مرحوم رئیس لودھیانہ نے میری طرف خط لکھا کہ میرے بعض امور معاش بند ہو گئے ہیں۔آپ دعا کریں کہ تا وہ کھل جائیں۔جب میں نے دعا کی تو مجھے الہام ہوا کہ کھل جائیں گے۔میں نے بذریعہ خط ان کو اطلاع دے دی۔پھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کھل گئے اور ان کو بشدت اعتقاد ہو گیا۔پھر ایک دفعہ انہوں نے بعض اپنے پوشیدہ مطالب کے متعلق میری طرف ایک خط روانہ کیا اور جس گھڑی انہوں نے خط ڈاک میں ڈالا اس گھڑی مجھے الہام ہوا کہ اس مضمون کا خط اُن کی طرف سے آنے والا ہے۔تب میں نے بلا توقف ان کی طرف یہ خط لکھا کہ اس مضمون کا خط آپ روانہ کریں گے۔دوسرے دن وہ خط آ گیا اور جب میرا خط ان کو ملا تو وہ دریائے حیرت میں ڈوب گئے کہ یہ غیب کی خبر کس طرح مل گئی کیونکہ 200