خزینۃ الدعا — Page 197
ورو حزينَةُ الدُّعَاءِ 17 اَدْعِيَةُ الْمَهْدِى حضرت مسیح موعود کے قبولیت دعا کے ایمان افروز واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔یا در ہے کہ خدا کے بندوں کی مقبولیت پہچاننے کے لئے دعا کا قبول ہونا بھی ایک بڑانشان ہوتا ہے۔بلکہ استجابت دعا کی مانند اور کوئی بھی نشان نہیں کیونکہ استجابت دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بندہ کو جناب الہی میں قدر اور عزت ہے۔اگر چہ دعا کا قبول ہو جانا ہر جگہ لازمی امر نہیں۔کبھی کبھی خدائے عز وجبل اپنی مرضی بھی اختیار کرتا ہے لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ مقبولین حضرت عزت کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ یہ نسبت دوسروں کے کثرت سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابت دعا کے مرتبہ میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہزار ہا میری دعائیں قبول ہوئی ہیں اگر میں سب کو لکھوں تو ایک بڑی کتاب ہو جائے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 321 روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 334) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصانیف نزول اسیح ، تریاق القلوب اور حقیقۃ الوحی میں قبولیت دعا کے نشان تفصیل سے تحریر فرمائے ہیں۔اس جگہ بطور نمونہ چند واقعات حضور ہی کے الفاظ میں بیان کئے جاتے ہیں:۔ایک دفعہ سخت ضرورت روپیہ کی پیش آئی۔جس کا ہمارے اس جگہ کے آریہ لالہ شرم پت و ملاوامل کو بخوبی علم تھا اور ان کو یہ بھی علم تھا کہ بظاہر کوئی ایسی تقریب نہیں جو جائے اُمید ہو سکے۔بلا اختیار دعا کے لئے جوش پیدا ہوا تا مشکل بھی حل ہو جائے اور ان لوگوں کے لئے نشان بھی ہو۔چنانچہ دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نشان کے طور پر مالی مدد سے اطلاع بخشے تب الہام ہوا۔دس دن کے بعد میں موج دکھاتا ہوں الا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ فِي شَائِلٍ مِقْيَاسِ دنِ ول 199