خزینۃ الدعا — Page 138
خَزِينَةُ الدُّعَاءِ 87 حفظ قرآن کا طریق اور دُعا مناجات رسُول الله حضرت عبد اللہ بن عباس " کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی ایک مجلس میں قرآن بھول جانے کے متعلق حضرت علی نے شکایت کی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے مفید کلمات نہ سناؤں جن سے تیرا حفظ قرآن پختہ ہو جائے؟ پھر آپ نے یہ طریق بتایا کہ جمعہ کی رات کو آخری حصے میں نوافل ادا کرو کہ یہ قبولیت دُعا کی خاص گھڑی ہوتی ہے ) اور حضرت یعقوب نے بھی اسی جمعہ کی رات کے انتظار میں کہا تھا کہ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّی کہ میں اپنے رب سے عنقریب استغفار کروں گا۔(یوسف : ۹۹) اگر ایسا ممکن نہ ہو تو رات کے درمیانی یا پھر پہلے حصے میں چار رکعت نماز ادا کرو۔پہلی رکعت میں فاتحہ اور سورۃ یسین ، دوسری رکعت میں فاتحہ کے ساتھ تم الدخان ، تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور الم تنزیل سجدہ اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کے ساتھ سورۃ ملک پڑھو۔آخری رکعت کے بعد جب تشہد پڑھ لو تو اللہ کی حمد وثناء اور مجھ پر اور انبیاء پر درود اور مومنوں کے لئے استغفار کے بعد یہ دُعا پڑھو۔کم از کم تین جمعے اور زیادہ سے زیادہ پانچ یا سات جمعے ایسا کرو تمہاری دعا قبول ہوگی۔اور اُس ذات کی قسم جس نے مجھے بھیجا ہے کہ پکے مومن کی دُعا رد نہیں کی جاتی۔☆ حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت علی پانچ یا سات مرتبہ یہ نسخہ آزمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ایسی ہی مجلس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور ! کجا میرا یہ حال تھا کہ روزانہ چار آیتیں بھی یاد کرتا تو بھول جاتی تھیں۔اب یہ حال ہے کہ روزانہ چالیس چالیس آیتیں بھی یاد کر لیتا ہوں اور جب خود دہراتا ہوں تو ایسے لگتا ہے جیسے قرآن شریف آنکھوں کے سامنے پڑا ہے۔پہلے یہی حال حضور" کی احادیث کو یا درکھنے کا بھی تھا کہ حضور سے سننے کے بعد دہرا تا تو بھول 139