خزینۃ الدعا — Page 104
خَزِينَةُ الدُّعَاءِ 53 مناجات رسُول الله سفر کی دُعائیں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ہے جب کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس تشریف لاتے تو (سفر میں ) ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے اور (اُترتے ہوئے ) یہ کلمات دُہراتے :۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ آئِبُونَ ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔☆ ( بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذا اسفر او رجع) ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ایک ہے ،اس کے سوا کوئی شریک نہیں بادشاہت اُسی کی ہے۔سب تعریف بھی اسی کو حاصل ہے۔اور وہ ہر ایک امر پر قادر ہے۔ہم لوٹ رہے ہیں تو بہ کرتے ہوئے مطیع ہو کر ( اور ) اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ سفر پر تشریف لے جاتے تو یہ دُعا پڑھتے ( یہ دُعا عبد اللہ بن عمرؓ اور ابو ہریرہ کی روایات جمع کر کے دی جا رہی ہے ):۔اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى ، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ اصْحَبُنَا بِنُصْحِكَ ، وَاقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ ،اللَّهُمَّ ازْولَنَا الْأَرْضَ اللَّهُمَّ هَوَنْ عَلَيْنَا فِي سَفَرِنَا هَذَا ، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَ الْأَرْضِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيْفَةُ فِى الْاَهْلِ اللَّهُمَّ اِنّى اَعُوْذُبِكَ۔وَعْتَاءِ السَّفَرِ ، وَ كَابَةِ الْمَنْظَرِ وَ سُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالَ - ( ترمذی کتاب الدعوات باب ما یقول اذا خرج مسافراً۔ابوداؤد کتاب الجہاد باب ما یقول الرجل اذا اسفر ) ترجمہ:- اے اللہ ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کے طلبگار ہیں اور ایسے عمل کی تو فیق چاہتے ہیں جس سے تو راضی ہو جائے۔اے اللہ ! تو اپنی خیر خواہی کے ساتھ ہمارا رفیق سفر ہو جا، اور ہمیں اپنے عہد و پیمان کے ساتھ واپس لوٹانا۔اے اللہ ! 105