خزینۃ الدعا — Page 94
خَزِينَةُ الدُّعَاءِ 43 مناجات رسُول الله فِي دِينِكَ، يَا مُقَلِبَ الْقُلُوبِ لَا تُزِغْ قُلُوبَنَابَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنكَ رَحْمَةٌ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ( مجمع الزوائد جلد 6 ص 201) ”اے اللہ ہم تجھ سے تقوی شعار زندگی اور بے عیب موت چاہتے ہیں۔اور لوٹنے کی ایسی جگہ جہاں رسوائی اور فضیحت نہ ہو۔اے اللہ ! ہمیں کسی یکدم حادثہ سے ہلاک نہ کرنا نہ ہی اچانک گرفت کرنا۔ہمیں اپنے حق اور وصیت کی ادائیگی سے پہلے جلدی میں واپس نہ بلا لینا۔اے اللہ ! ہم تجھ سے پاک دامنی ، غنا، تقویٰ، ہدایت اور دنیا و آخرت کے بہترین انجام کی دعا کرتے ہیں۔اور ہم تجھ سے شک، اختلاف، ریاء اور تیرے دین میں اظہار شہرت سے پناہ مانگتے ہیں۔اے دلوں کے پھیرنے والے ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اور ہمیں اپنے حضور سے رحمت عطا کر نا یقینا تو بہت عطا کرنے والا ہے۔مسنون خطبہ جمعہ وعیدین ☆ حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ (جمعہ یا عید کے روز ) رسول کریم کے دو خطبے ہوتے تھے جن کے درمیان آپ (خاموش ) بیٹھتے تھے۔خطبہ میں آپ قرآن شریف کی تلاوت کر کے لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔(مسند احمد جلد ۵ ص۹۲) حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن نبی کریم کا خطبہ اس طرح ہوتا تھا کہ پہلے آپ اللہ کی حمد اور ثناء کرتے تھے پھر اس کے بعد بآواز بلند باقی خطبہ پڑھتے تھے۔(مسلم کتاب الجمعه باب تخفيف من الصلاة والخطبة ) عید میں بھی یہی طریق تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس کی روایت کے مطابق اس مسنون خطبہ کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں :۔الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ 95