ختم نبوت کی حقیقت — Page 76
اور اسی لئے اس آیت کے باوجود آپ اُسے خود اپنی زبانِ مبارک سے نبی قرار دے رہے ہیں۔(۳) اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود کے درمیان نبوت کا دعوی کرے تو وہ جھوٹا ہے۔کیونکہ فیج اعوج کا زمانہ ازل سے دجالون کذابون کی پیشگوئی کے مطابق جھوٹے نبیوں کے لئے ریز رو ہو چکا ہے۔نبوت کے متعلق صحیح مسلم کا حوالہ ابو داؤد کی اس حدیث کی تائید صحیح مسلم کی ایک حدیث کے ذریعہ بھی ہوتی ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے مسیح کو ایک ہی فقرہ میں بار بار نبی کے نام سے یادفرماتے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔و يُحصر نبى الله عیسی و اصحابه۔فيرغب نبی اللہ عیسی و اصحابه۔ثمّ يهبط نبی الله عیسی و اصحابه۔نبی اللہ عیسی و اصحابہ الی الله - الخ فيرغب (مسلم باب ذکر الدجال) " یعنی جب مسیح موعود یا جوج ماجوج کے زور کے زمانہ میں آئے گا تو مسیح نبی اللہ اور اس کے صحابی دشمن کے نرغہ میں محصور ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔پھر مسیح نبی اللہ اور اس کے صحابی خدا کے حضور دعا اور تضرع کے ساتھ رجوع ۳ کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس دُعا کے نتیجہ میں مسیح نبی اللہ اور اس کے صحابی مشکلات کے بھنور سے نجات پا کر دشمن کے کیمپ میں گھس جائیں گے۔لیکن