ختم نبوت کی حقیقت — Page 75
۷۵ سلسلہ کے گزرے ہوئے مسیح ناصری کا۔عزیز و اور دوستو! خدا کے لئے سوچو اور غور کرو کہ ایک طرف تو ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انه نازل ( یعنی یہ مسیح آئندہ زمانہ میں ظاہر ہوگا) کے الفاظ فرما کر یہ اعلان فرما رہے ہیں کہ یہاں مسیح ناصری کا ذکر نہیں بلکہ مسیح محمد مہی کا ذکر ہے جو آئیندہ آنے والا ہے۔اور دوسری طرف آپ یہ الفاظ فرمارہے ہیں کہ :۔لیس بینی و بینه نبی یعنی میرے اور اس آنے والے مسیح کے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔“ تو اب ان دو یقینی اور قطعی تصریحات کے ہوتے ہوئے کون عقلمند انسان اس بات میں شک کر سکتا ہے کہ ہمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق آنے والا مسیح خدا کا نبی ہے اور نبی بھی ایسا جسے یونہی تسامح اور وسعت مفہوم کے رنگ میں غیر اصطلاحی طور پر نبی کا نام نہیں دے دیا گیا۔بلکہ سچ سچ کا نبی۔ہاں ہاں ایسا نبی جس کے متعلق یہ الفاظ بولے جاسکیں کہ اس کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ؟ خلاصہ کلام یہ کہ ابوداؤد کی اس حدیث سے ذیل کی تین باتیں روز روشن کی طرح ثابت ہوتی ہیں:۔(۱) محمدی سلسلہ کا مسیح خود سرور کائنات کے ارشاد کے مطابق خدا کا نبی ہے جو امت محمدیہ کی حفاظت کے لئے اس کے آخری کنارے پر اسی طرح چوکس ہو کر کھڑا ہے جس طرح کہ اس کے ابتدائی کنارے پر ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہیں۔(۲) ایسے نبی کا آنا جو يُقاتل الناس على الاسلام کے ارشاد کے مطابق خدمت اسلام کے لئے مبعوث کیا گیا ہو آیت خاتم النبیین کے خلاف نہیں۔کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا رُوحانی فرزند اور آپ ہی کے وجود کا حصہ ہے۔