ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 54 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 54

۵۴ خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ظلی نبوت کا رستہ گھلا ہونا ثابت ہوتا ہے یعنی جن سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ گو ہمارے آقا (فداہ فسی) کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آ سکتا اور نہ ہی کوئی غیر تشریعی مستقل نبی آسکتا ہے۔جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے آزاد ہو کر براہ راست نبوت کا انعام پایا ہو۔لیکن امتی نبی جس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے فیض پایا اور آپ کے ٹور سے ٹور حاصل کیا ہو ضرور آسکتا ہے۔اور ہم جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی قسم کا ظلی اور امتی نبی یقین کرتے ہیں جس نے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی اور پیروی میں نبوت کا انعام پایا۔بہر حال اس جگہ پہلے مثبت قسم کی حدیثوں کی بحث پیش کی جاتی ہے۔اور اس کے بعد انشاء اللہ اسی اصول پر ان منفی قسم کی حدیثوں کی تشریح پیش کی جائے گی جن سے ہمارے مخالفین بزعم خود یہ استید لال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔اگر ابراہیم ابنِ رسول زندہ رہتا تو ضرور نبی بن جاتا ! اس تمہیدی نوٹ کے بعد جو حدیث میں موجودہ بحث کے تعلق میں سب سے بیان کرنا چاہتا ہوں وہ ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ صاحبزادہ ابراہیم سے تعلق رکھتی ہے۔ابراہیم جو حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے نہ ہجری میں پیدا ہوئے تھے (طبری و زرقانی و تاریخ خمیس ) اور چونکہ نبوت کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا لڑکا تھا اور اس سے پہلے جولڑ کے حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے تھے وہ سب کے سب فوت ہو چکے تھے اس لئے۔