ختم نبوت کی حقیقت — Page 29
۲۹ دیتا ہے کہ مُجھ سے یہ یہ چیزیں مانگو اور دوسری طرف وہ اپنا ہا تھ کھینچ لیتا ہے کہ میں تو یہ چیزیں تمہیں ہر گز نہیں دُوں گا۔افسوس صد افسوس۔کیا خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہی ایسی رہ گئی ہے کہ اس کے ساتھ یہ کھیل کھیلا جائے؟ اس اُمت پر انعام کے سارے رستے کھلے ہیں پھر لطف یہ ہے اور حقیقہ یہ قرآن مجید کا ایک کمال ہے کہ اگر ان آیتوں کو مرتب صورت میں نہ بھی لیا جائے جیسا کہ ہم نے اوپر والے بیان میں لیا ہے تو پھر بھی علیحدہ علیحدہ صورت میں بھی یہ دونوں آیتیں ( یعنی سورہ فاتحہ کی آیت اور سورہ نساء کی آیت جو او پر درج کی جاچکی ہیں۔بڑی صراحت اور وضاحت کے ساتھ امت محمدیہ میں نبوت کا دروازہ کھول رہی ہیں۔چنانچہ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں سورۃ فاتحہ کی آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ :۔اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - د یعنی اے ہمارے خدا ہمیں سیدھے رستہ کی طرف ہدایت دے، وہ رستہ جو تیری طرف سے انعام پانے والوں کا رستہ ہے۔“ اب ظاہر ہے کہ اگر سورۂ نساء والی آیت جو ہم او پر درج کر چکے ہیں نہ بھی ہو تو پھر بھی یہ سورۃ فاتحہ والی آیت اپنی ذات میں ہی اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ مسلمانوں کیلئے ان تمام انعاموں کے دروازے کھلے ہیں جو سابقہ امتوں کو متفرق طور پر ملتے رہے ہیں کیونکہ جب خدا خود ایک دُعا سکھاتا ہے اور اس دُعا میں انعام کے ذکر کو مطلق رکھا گیا ہے اور اس کے ساتھ کوئی شرط یا حد بندی نہیں لگائی گئی تو لا زما اس کے یہی معنی ہیں کہ دُعا مانگنے والوں کیلئے سب قسم کے انعاموں کے حصول کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے ورنہ ایسی دُعا کا سکھانا