ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 28 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 28

۲۸ اب دیکھو کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں سورہ فاتحہ میں خود یہ دعا سکھائی ہے کہ اے مسلمانو! تم اُن لوگوں کا رستہ تلاش کرو اور ان لوگوں کی برکتوں کے طالب بنو جنہوں نے تم سے پہلے خُدا کے انعام پائے۔بلکہ جہاں سابقہ امتوں نے یہ انعام متفرق صورت میں حاصل کئے وہاں تم ان سب انعاموں کو اپنے اندر جمع کرنے کی کوشش کرو۔اور دوسری خدا تعالیٰ نے خود یہ تشریح فرما دی کہ انعام پانے والوں سے ہماری مراد نبی اور صدیق اور شہید اور صالح ہیں۔تو اب ان دو واضح آیتوں کو ملانے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے لئے جو خدا کے فضل سے سب امتوں میں سے افضل ترین امت ہے نبوت کے انعام کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ورنہ یہ ہرگز ممکن نہیں تھا کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھاتا کہ ” اے خدا ہمیں انعام پانیوالے لوگوں میں شامل فرما۔اور دوسری طرف خود یہ تشریح فرما تا کہ انعام پانے والوں سے ہماری مراد نبی اور صدیق اور شہید اور صالح ہیں۔اور پھر باوجوداس کے اپنے حبیب کی اُمت پر ان برکات کے دروازے بند رکھتا !! عزیز و اور دوستو غور کرو اور اپنے دل و دماغ کی کھڑکیوں کو کھول کر سوچو کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ یہ دعا سکھاتا ہے کہ ہمیں انعام پانیوالے لوگوں میں شامل کر اور دوسری طرف وہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انعام پانے والوں سے نبی اور صدیق اور شہید وغیرہ مراد ہیں تو کیا ان دو قرآنی آیتوں کے مرکب مفہوم سے اس کے سوا کوئی اور بات ثابت ہوتی ہے یا ہوسکتی ہے کہ اس اُمت کے لئے جو خدا کے فضل سے افضل ترین امت ہے جس طرح صدیق اور شہید اور صالح کا انعام گھلا ہے اسی طرح نبوت کا انعام بھی گھلا ہے؟ ورنہ ہمارے خدائے قدوس پر نعوذ باللہ یہ الزام آتا ہے کہ ایک طرف تو وہ ہمیں خود کہتا اور ترغیب