ختم نبوت کی حقیقت — Page 21
۲۱ اختلاف حل کرنے کے چاڑا مکانی طریقے ختم نبوت کے متعلق جماعت احمد یہ اور اس زمانہ کے دیگر عامتہ المسلمین کے عقیدہ کا اختلاف بیان کرنے کے بعد اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس اختلاف کے حل کی صورت کیا ہے۔اور ہم کس طرح فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس معاملہ میں جماعت احمدیہ کا نظریہ درست ہے یا کہ اس زمانہ کے دوسرے عام مسلمانوں کا؟ سو جاننا چاہیئے کہ ایک مسلمان کے لئے تمام دینی مسائل میں اختلاف کا حل امکانی طور پر صرف چار طریق پر ہی ہوسکتا ہے۔اوّل قرآن مجید کے ذریعہ جو حق و باطل کو پہچاننے کے لئے سب سے زیادہ پختہ اور سب سے زیادہ یقینی کسوٹی ہے اور جس کے متعلق خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قباتي حَدِيثٍ بَعْدَ الله وَالتِهِ يُؤْمِنُونَ (سورۃ جاثیہ آیت ۷ ) ” یعنی خدا اور اس کی آیات کی گواہی کے مقابل پر لوگ کس حدیث کو قبول کریں گے؟“ دوسرے درجہ پر حدیث ہے۔حدیث گوا تنا پختہ اور ارفع مقام نہیں رکھتی جو کتاب اللہ کو حاصل ہے اور نہ ہی کسی حدیث کے متعلق یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ وہ ضرور مین و عن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کلام ہے۔مگر پھر بھی قرآن مجید سے اُتر کر اسلامی مسائل کو حل کرنے کے لئے حدیث ایک نہایت عمدہ ذریعہ ہے۔گو ہمیں لا زما اس میدان میں مختلف حدیثوں کے مدارج اور صحیح اور ضعیف کے فرق کو مدّ نظر رکھنا ہوگا۔تیسرے درجہ پر اسلام کے گذشتہ صلحاء اور محمد دین اور ائمہ کا مقام ہے۔کیونکہ یہ مبارک طبقہ گو بشری غلطیوں سے پاک نہ ہولیکن بہر حال وہ عامتہ المسلمین کی نسبت