ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 16 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 16

۱۶ نبوت کا مقام حاصل کر سکتا ہے۔کیونکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تامہ کا ملہ کی ہتک نہیں۔بلکہ آپ کی نبوت کا کمال ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے درخشاں سورج نے اپنے ٹور کے زور سے اپنی ہی شکل پر اپنے گرد گھومنے والا ایک پورا چاند پیدا کر دیا۔اور ہمارے عقیدہ کے مطابق اس قسم کی نبوت سے ختم موت کی مہر بھی ہرگز نہیں ٹوٹتی اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کوئی رخنہ پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ مخدوم اور متبوع اور فیض دہندہ ہونے کے لحاظ سے اس صورت میں بھی دراصل آپ ہی آخری نبی رہتے ہیں۔جیسا کہ چاند کے نکلنے سے سُورج کی حکومت ختم نہیں سمجھی جاتی بلکہ اس کی حکومت کا اقتدار اور بھی زیادہ نمایاں ہو کر نظر آنے لگتا ہے۔اسی نظریہ کے ما تحت ہم حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کو ختم نبوت کے منافی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے براہ راست نبوت کا منصب پایا تھا۔لہذا ایسے شخص کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی اصلاح کے لئے مبعوث ہونا جس کی مبقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی مرہونِ منت نہیں صریحا ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موجب ہتک اور ختم نبوت کی مہر کو توڑنے والا ہے فافهم و تدبر ولا تكن من الممترين - ختم نبوت کے متعلق حضرت مسیح موعود کا حلفی اعلان لیکن قبل اس کے کہ میں جماعت احمدیہ کے عقیدہ کی تائید میں دلائل بیان