ختم نبوت کی حقیقت — Page 12
۱۲ خدمت میں لگا دیئے گئے تھے۔ایسے انبیاء با وجود صاحب شریعت نہ ہونے کے مستقل نبی کہلاتے ہیں۔یہی وجہ ہے ( اور یہ ایک خاص نکتہ ہے جو یا درکھنے کے قابل ہے ) کہ ایسے نبیوں کو اپنے سابقہ تشریعی نبی کے تابع ہونے کے باوجود اس کے ساتھ کوئی خاص خادمانہ عقیدت نہیں ہوتی جیسا کہ مثلاً ہمیں حضرت مسیح ناصری میں حضرت موسیٰ کی شریعت کے ماتحت ہونے کے باوجود حضرت موسی کے ساتھ کوئی خاص محبت اور عقیدت کا لگاؤ نظر نہیں آتا۔بلکہ ان کا معاملہ ایسا نظر آتا ہے جیسے کہ مثلاً ایک ضلع کے کسی مجسٹریٹ یا ای۔اے سی کو حسب ضرورت کسی دوسرے ضلع میں تبدیل کر کے اس ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے ماتحت لگا دیا جائے۔تیسری قسم کا نبی وہ ہوتا ہے جو نہ تو صاحب شریعت ہو اور نہ وہ کوئی مستقل حیثیت رکھتے ہوئے کسی سابقہ نبی کی پیروی کے بغیر براہِ راست نبوت کا انعام پائے بلکہ اُس کی نبوت اپنے متبوع نبی کی ظل اور اسی کا عکس اور اسی کا حصہ ہو یعنی وہ اپنے متبوع نبی کی پیروی کے نتیجہ میں اسی سے فیض پا کر اور اسی کے نور سے روشنی لیکر نبوت کا انعام پائے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی باغبان کو اس کے باغ کی حفاظت کے لئے باہر سے کوئی غیر باغبان لانے کی بجائے اس کا بیٹا ہی بطور نائب کے دے دیا جائے۔اور ظاہر ہے کہ جو عقیدت اور محبت اور درد اور اخلاص ایک بچے کو اپنے باپ اور اس کے لگائے ہوئے باغ کے ساتھ ہوسکتا ہے وہ ایک غیر شخص کو جو گو یا باہر سے لا کر بطور نائب مقرر کر دیا جاتا ہے ہرگز نہیں ہو سکتا۔اسی لئے ہم جہاں مقدس بانی سلسلہ احمدیہ یعنی حضرت مسیح موعود میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیر معمولی عقیدت اور والہانہ محبت اور اخلاص کا جذبہ دیکھتے ہیں اس کا ہزارواں حصہ بھی اسرائیلی نبیوں میں حضرت موسی کے لئے نظر نہیں آتا۔