ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 135 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 135

۱۳۵ اقوالِ بزرگان کی رُو سے مسئلہ ختم نبوت کا حل ان اقوال کے پیش کرنے میں دوہری غرض احادیث کی بحث ختم کرنے کے بعد اب میں نہایت اختصار کے ساتھ بعض گزشتہ بزرگوں کے ایسے اقوال پیش کرنا چاہتا ہوں جن میں انہوں نے مسئلہ نبوت کے متعلق اسی قسم کے خیالات کا اظہار فرمایا ہے جو آج جماعت احمدیہ کی طرف سے ظاہر کئے جارہے ہیں۔میں یہ اقوال اس غرض سے نہیں پیش کر رہا کہ ہمارے لئے یا ہمارے مخالفوں کے لئے ان بزرگوں کا ہر قول قابل محبت ہے۔( کیونکہ یہ مقام صرف خُدا اور اس کے رسول کو حاصل ہے۔اور ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں) بلکہ میں یہ حوالے صرف اس بات کے ثبوت کے لئے پیش کر رہا ہوں کہ ہم نے اس بحث میں کوئی نئی بات نہیں کہی بلکہ کم و بیش وہی بات کہی ہے جو ہم سے پہلے گزرے ہوئے صلحائے امت اور بزرگانِ کرام مختلف زمانوں میں کہتے چلے آئے ہیں۔علاوہ ازیں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی پیشگوئی فرمائی تھی کہ گو جیسا کہ قدیم سے سنت ہے ایک زمانہ کے بعد میری اُمت کے خیالات اور اعمال میں بھی فسادرُونما ہو جائے گا۔مگر میری اُمت کبھی بھی ساری کی ساری خراب نہیں ہوگی۔اور اس کا ایک نہ ایک حصہ ضرور حق و صداقت پر قائم رہے گا۔چنانچہ آپ نے فرمایا تھا کہ لا تزال طائفة من أمتى على الحق لا يضرهم من خالفهم حتى يأتى امر الله (ابوداؤد کتاب الفتن ) یعنی میری اُمت کا ایک نہ ایک حصہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔اور اُن کے مخالف خیال لوگ اُن کی کمزوری کے زمانہ میں بھی انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے حتی کہ اللہ تعالیٰ اُن کی کامیابی کا پورا پورا رستہ کھول