آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک

by Other Authors

Page 52 of 56

آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک — Page 52

یش کرنے والا ہے۔اور کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کا تابع فرمان ور آپ سے فیض یافتہ نہ ہو اور کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی است، خاتم النبیین کی اس عارفانہ اور حکم تشریح کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ہم اس زمانہ کے علماء کے عقائد کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان ایک بھیانک تضاد نظر آتا ہے ایک طرف تو وہ بزرگان سلف کے مالک سے ہٹتے ہوئے یہ دعوی کرتے ہیں کہ آیت خاتم کی رُو سے اب کبھی کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔نہ شریعیت والا نہ غیر شریعت ا داشتی نه یه امتی، نه آزاد نہ غلام ، حتی کہ وہ شخص بھی انعام نبوت نہیں پا سکتا جو کامل طور پر حضور اکرم حیلہ اللہ علیہ وسلم کا ہو اور اس درجہ آ درجہ آپ کا عاشق نامہ ہو کہ اپنی ذات کو کلید محمود در اپنے بروزه وجود پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاکمیت مسلط کر لے گویا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور مکمل بن جائے۔ایک طرف تو بزرگان سلف کے مسلک سے شمالہانہ عقیدہ اور دوسری طرف یہ ایمان که حضرت عیسی لیہ السلام جو بنی اسرائیل کے ایک رسول تھے اور اثرتِ موسوی کے یک فرد تھے اور شریعیت موسوی کے تابع نبی تھے آپ کسی وقت است یہ میں بحیثیت نہیں اور رسول نازل ہوں گے۔است جب جماعت احماد بنہ کی طرف است اس تضاد کی طرف توجہ مبذول