آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک

by Other Authors

Page 51 of 56

آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک — Page 51

علمائے ربانی اور بزرگان سلف کے جو ارشادات ہم نے پیش کئے ہیں ان کے مطالعے سے قارئین کرام پر یہ حقیقت خوب واضح ہو چکی ہوگی کہ پہلی صدی سے لے کہ آخر تک بڑے بڑے صاحب اکرام اور اہل علم و فضیل بزرگان کے نزدیک خاتم النبیین کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ ہر قسم کی نبوت کو مطلقا بند کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو یہ عظیم الشان لقب آپ کو عطا ہوا ہے اس کے نہایت وسیع اور گرے عارفانہ معانی ہیں جن کی رُو سے ہر فضیلت کی کنجی آپ کو عطا کی گئی اور ہر بزرگی اور برکت اور نعمت بدرجہ اتم آپ کو عطا ہوئی۔پس بحیثیت خاتم آپ ایک ایسے اعلیٰ اور ارفع اور بلند ترین مقام تک پہنچے کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ اور جن و انس میں کوئی اس مقام میں آپ کا شریک نہیں۔اس کمال اور اتمام نعمت کا تقاضا تھا کہ آپ کی شریعت ہمیشہ باقی اور تاقیامت ایک شوشہ بھی اس اکمل شریعیت کا منسوخ نہ ہو اور اس کمال اور اتمام نعمت کا تقاضا تھا کہ تا قیامت فیض کا ہر دوسرا دروازہ بند ہو سوائے آپ کے دروازہ کے اور آپ سے فیض حاصل کئے بغیر اور آپ کی غلامی اور شاگردی کا دمتم بھرنے کے سوا کوئی روحانی فیض اور نعمت کسی کو عطا نہ ہو۔میں اس نقطہ معرفت پر نگاہ رکھتے ہوئے بزرگان سلف نے پیشرط عائد کی کہ آئندہ کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعیت کو