بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 6
اَنَّ التَّشْرِيمَ اَمْرُ عَارِضَ بِكَوْنِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ فِيْنَا مَكَما مِنْ غَيْرِ تَشْرِيحٍ وَهُوَ نَبِى بِلا شَةٍ " جب نبوت اشرف و اکمل مرتبہ ہے جس پر وہ شخص پہنچتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا تو ہم نے جان لیا کہ شریعیت کا لانا ایک امر عارض ہے (یعنی نبوت مطلقہ کی حقیقت ذاتیہ پرایک زائد وصفف ہے۔ناقل ) کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام بغیر شریعیت کے ہم میں محکم ہو کر نازل ہوں گے اور وہ بلا شبہ نبی ہوں گے " افتوحات مکیه علیه اقول من ۱۵ پس جب حضرت عیسی علیہ السّلام ان کے نزدیک بود از نزول بلا شک نبی ہیں تو معلوم ہوا کہ غیر تشریعی نبی بھی ان کے نزدیک نبی ہوتا ہے۔اسی لئے انہوں نے شریعیت لانے کو امر عارض یعنی نبوت پر زائد وصف قرار دیا۔لہذا جب شریعت امر عارض ہوئی تو المبشرات ہی نبوت کے جدہ ذاتی قرار پائے۔اور یہ بیان حضرت محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ کا سو فیصدی درست ہے کیونکہ چتر موسی علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں جو نبی آئے۔وہ کوئی جدید شریعت نہیں لائے بلکہ وہ شریعت موسوی یعنی تورات کا ہی حکم دیتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إلا انْزَلْنَا الشَّوْرية فِيهَا هُدى وَ نُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النبيُّون الدين أسلموا اللَّذينَ هَادُوا الآية (امام)