بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 64 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 64

باری ہوا۔وہ بہت حمد کرنے والے ہیں۔پڑھائی اور اُترائی میں محمد کریں گے۔اپنی کمریں باندھیں گے اور اپنے اطراف (اعضاء) پاک رکھیں گے۔دن کو روزہ رکھیں گے اور رات کو تار کب دُنیا۔میں اُن کا تھوڑا عمل بھی قبول کروں گا، اور انہیں کلمہ لا الہ الا اللہ کی شہادت سے جنت میں داخل کروں گا۔موسی علیہ السلام نے کہا مجھ کو اُس اُمت کا نبی بنا دیجئے۔ارشاد ہوا۔اس اُمت کا نبی اس امت میں سے ہوگا۔عرض کیا مجھ کو اُن (احمد) کی است میں سے بنا دیجئے۔ارشاد ہوا۔تم پہلے ہو گئے وہ پیچھے ہوں گے۔البتہ تم کو اور ان کو دارالجلال (جنت) میں جمع کر دوں گا ہے اس عدمیت کی رو سے حضرت عیسی علیہ السلام بھی اصالتا حضرت موسی علی السلام کی طرح اس امت میں نہیں آسکتے۔کیونکہ اس حدیث کے رُو سے نبی است میں سے ہی آسکتا ہے۔پس حدیثوں کا موعود عیسی نبی اللہ اس امت میں سے ہی ایک فرد نبی اللہ بننے والا تھا۔اور انقطاع نبوت کے مضمون پر مشتمل احادیث کا مطلب صرف یہ رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے باہر اب کوئی شخص مقام نبوت نہیں پاسکتا۔ختند بروایا اولی الالباب۔واخر دعونا آنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ كتبه شاه محمد شاہد شباب الاسلام نہیں