بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 40 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 40

کے بعد کھلا ہے۔اسے وہ نبوت القرب والاعلام والحکم الا لہی بھی قرار دیتے ہیں اور تشریعی نبوت کو بند مانتے ہیں۔پھر لکھتے ہیں :۔إن كثيرا من الانماء نُبُوَّتُهُ نَبُوةُ الوِلَايَةِ كَالْخَفَيرِ فِي بعض الأقوالِ وَكَعِيسَى إِذَا نَزَلَ إِلَى الدُّنْيَا فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ لم بدةُ التَّشْرِيمِ وَكَثِيرِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ " د الانسان الکامل جلد ۲ ص ) یعنی بہت سے انبیاء کی نبوت بھی نبوت الولایت ہی تھی۔جیسا کہ حضرت خضر علیہ السّلام کی نبوت بعض اقوال میں اور جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت جب وہ دنیا میں نازل ہوں گے تو ان کی نبوت تشریعی نہیں ہوگی اور اسی طرح بہت سے انبیاء بنی اسرائیل کا حال ہے۔پھر وہ نبی الاولیاء کے متعلق لکھتے ہیں بل كُل نَبِي وَلَايَةٍ أَفْضَلُ مِنَ الْوَلِي مُطْلَقًا وَ مِنْ ثَمَّ قيل بداية النبيِّ نِهَايَةُ الوَلِي فَافُهُمْ وَتَأَمَلَهُ فانتَهُ قَدْ خَفَى عَلَى كَثِيرِ مِنْ أَهْلِ مِثْتِنَا " د الانسان الكامل مدة یعنی ہر نبی ولایت مطلق ولی (محض ولی) سے افضل ہوتا ہے۔اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ نبی کا آغاز ولی کی انتہا ہے۔پس اس نکتہ کو سمجھ لو 3