بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 26
کے تابع ہوگا۔۲۶ مولوی لال حسین صاحب اوریہ کی عبارت کی تشریح میں اپنے ڈیکیٹ میں لکھتے ہیں :- وہ ولایت الہام اور مبشرات کو اقت میں جاری مانتے ہیں۔اور اسی کو غیر تشریعی نبوت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے قائل ہیں۔آمد ثانی کے بعد حضرت مسیح ہے۔کسی نئے اوامر اور تو انہی کا نزول نہیں مانتے۔ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہو گزیدہ نبی حضرت پیسے علیہ السلام حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔وہ شریعت محمدیہ کو منسوخ نہ کرینگے بلکہ اسی شریعت کی متابعت کریں گے " ( ٹریکٹ مولوی لال حسین ص ) ہمیں مولوی لال حسین صاحب کی یہ تشریح بھی مسلم ہے اور ہم اس تشریح پر صرف یہ امر زیادہ کرتے ہیں کہ حضرت محی الدین ابن عربی موجود عیسی کو مجب غیر تشریعی نبی مانتے ہیں نہ کہ تشریعی نبی۔تو ساتھ ہی وہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ وہ بلا شک نبی ہوں گے اور نبوت مطلقہ رکھتے ہوں گے۔اور وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے اصالتا نزول کے بھی قائل نہیں بلکہ لکھتے ہیں :- تجب نُزُولُهُ في أَخِرِ الزَّمَانِ تعلله بَدِي أَخَرَ۔تنی شیخ کہ یہ عائشہ فرانس البیان است الكبريم