بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 22 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 22

۲۲ یعنی حضرت عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول اس بات کے مدنظر ہے۔کہ بیٹے علیہ السلام نازل ہوں گے۔یہ ہمارے مقصد کے خلاف نہیں۔گو یہ امام محمد طاہر صاحب کا اپنا قیاس ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ کے الفاظ میں اس کا مطلقا ذکر نہیں۔مگر خواہ بقول امام محمد طاہر صاحب نزول عیسی کو مد نظر رکھ کر حضرت عائشہ صدیقہ کا یہ قول فرض کیا جائے امام محمد طاہر صاحب نے حدیث لانبی بعدی کا مطلب واضح فرما دیا ہے جیسے مولوی لال حسین صاحب اختر نے تسلیم کر لیا ہے کہ : حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا ہوں حضور صلی الہ علیہ وسلم کے دین کو منسوخ کرے اور حضرت عیسی علیہ السلام تو حضور صلے سہ علیہ وسلم کے دین کی استاد کیلئے تشریف لائیں کہ کہ اسلامی تعلیمات کو منسوخ کرنے کیلئے ٹریکٹ ملا) اس سے ظاہر ہے کہ ہمارا اور مولوی لال حسین صاحب کا اعتقاد یہ ہے کہ مسیح موعود نبی اللہ ہے ہاں ہم احمدی نزول عیسی کی حدیث کا تعلق ایک مثیل مسیح سے سمجھتے ہیں کیونکہ حدیثوں میں اس کے متعلق اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ (صحیح بخاری) اور فالشکم منکم وصحیح مسلم اور اما ما مصدا یا د سند احمد بن حنیل) کے الفاظ وارد ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ یہ موجود عیسی امت محمدیہ میں سے اقت کا امام ہے جسے سند احمد کی حدیث میں امام مہدی بھی قرابہ دیا گیا ہے۔پس ہم دونوں فریق متفق ہیں کہ حدیث لا نبی بعدی ایسے نبی کے آنے کے لئے مانع نہیں جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کیلئے تشریف لائے۔مولوی لال حسین صاحب ایسا آنے والا نبی حضرت عیسی علیہ السلام کو سمجھتے ہیں اور ہم لوگ یہ موعود جیسے ایک اتنی فرد کو سمجھتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ کے افاضہ رومانیہ سے مقام نبوت پا کر اشاعت دین محمدی کے