مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 73 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 73

(۵) روایت نمبر ۲۱ کے ان الفاظ سے کہ پتھر اور درخت پکار اُٹھیں گے، کہ اے عبداللہ ، اے عبدالرحمن ، اے مسلم یہ الیہودی ہے اسے قتل کر دو ، مودودی صاحب کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ دقبال یہودی ہوگا حالانکہ یہ سب الفاظ بھی تعبیر طلب ہیں کیونکہ پتھر اور درخت کا ظاہری طور پر پکار اُٹھنا بھی اسی طرح سنت اللہ اور حکمت خداوندی کے خلاف ہے جیسے مودودی صاحب کے نزدیک آسمان سے یہ آواز آنا کہ یہ ہمارا خلیفہ مہدی ہے اس کی سُنو اور اطاعت کرو، سنّت اللہ اور حکمتِ خداوندی کے خلاف ہے۔پس حجر اور شجر کے پکار اُٹھنے کی تعبیر یہ ہے کہ جن دلائل کو دقبال مضبوط اور تسلّی دہندہ سمجھ کر ان کی پناہ لے رہا ہو گا۔وہ دلائل بزبانِ حال مسیح موعود اور اس کی مسلم جماعت کے سامنے خود اپنی کمزوری کا اعلان کر رہے ہوں گے اور مسیح موعود اور اس کی جماعت کے دلائل کے سامنے دقبال اپنے ان دلائل سے کوئی پناہ اور سہارا نہیں پاسکے گا۔اور حسب آیت لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ کہ ہلاک ہوا وہ جو دلائل سے ہلاک ہو۔دقبال دلائل کی رو سے ہلاک ہو جائیگا اور یہی اس کا قتل کیا جاتا ہے۔جس کے بعد اس کی قوم اسلام میں نیا روحانی جنم لے گی۔کسر صلیب اور قتل خنزیر کے الفاظ کی تعبیر خود مودودی صاحب نے بھی یہی کی ہے کہ عیسائیت الگ دین کی صورت میں ختم ہو جائے گی۔(۶) اس حدیث میں دجال کو الیہودی اس لئے کہا گیا ہے کہ عیسائیت بھی دراصل یہودی مذہب کی ایک شاخ ہے۔نیز اپنے زمانہ کے مسیح موعود کا انکار کرنے کی وجہ سے جس طرح یہود نے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کا انکار کر دیا تھا۔دجال یہودیوں سے مشابہت رکھنے اور ان کا مثیل ہوجانے کی وجہ سے تمثیلی زبان میں ”الیھودی“ قرار دیا گیا ہے۔پس الیہودی دجال کا وصفی نام ہے نہ کہ خاندانی۔کیونکہ اسی حدیث میں آگے مسیح موعود کی جماعت کے متعلق لکھا ہے۔وَيَكْسِرُونَ الصَّلِيْب وَيَقْتُلُونَ الْخِنْزِيرَ کہ وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے جس سے خود مودودی صاحب عیسائیت کا الگ دین کی صورت میں ختم ہو جانا مراد لے 73