مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 16
کہ نبی کا آغاز ولی کی انتہا ہے۔پس اس نکتہ کو سمجھ لو اور اس میں غور کرو کیونکہ یہ ہمارے بہت سے اہل ملت پر مخفی رہا ہے ( یعنی انہوں نے نبوۃ الولایت کو ولایتِ مطلقہ کا ایک درجہ قرار دے دیا ہے جو درست نہیں ) پھر سید موصوف لکھتے ہیں:۔اِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ وَنُبُوَّتُهُ نُبُوَّةُ الْوَلَايَةِ كَالْخِضْرٍ فِي بَعْضِ الْأَقْوَالِ وَكَعِيسَى إِذَا نَزَلَ إِلَى الدُّنْيَا فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ لَهُ نُبُوَّةُ تَشْرِيعٍ وَكَغَيْرِهِ مِنْ بَنِى اسرائيل - ( الانسان الکامل صفحه ۸۵) یعنی بہت سے انبیاء کی نبوت بھی نبوة الولایت ہی تھی۔جیسا کہ حضرت خضر علیہ السّلام کی نبوت بعض اقوال میں اور جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت جب وہ دنیا میں نازل ہوں گے تو اُن کی نبوت تشریعی نہیں ہوگی اور اسی طرح بنی اسرائیل کے دوسرے نبیوں کا حال ہے یعنی ان کی نبوت نبوۃ الولایت تھی نہ کہ تشریعی نبوت۔اسی نبوة الولایت کو جس کے ساتھ مسیح موعود کا آنا تسلیم کیا گیا ہے حضرت محی الدین ابن العربی نے نبوت مطلقہ قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔يَنْزِلُ وَلِيًّا ذَا نُبُوَّةٍ مُطلَقَةٍ ( فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۵۵) یعنی حضرت عیسی علیہ السلام ایسے ولی کی صورت میں نازل ہونگے جو نبوت مطلقہ کا حامل ہوگا۔پھر فرماتے ہیں :۔عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنزِلُ فِيْنَاعَكُما مِنْ غَيْرِ نَشْرِيج وهُوَ 16