خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 86

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 86 98 نبی کر نے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء پوچھا جانے لگا کمزور طاقت ور کے مظالم کا نشانہ نہ رہا اور ظالموں کے دل خوف عاقبت سے بھر گئے۔تاریخ عالم پر نگاہ ڈال کر دیکھئے اور مذاہب عالم کے پیرو کا ران کو ان کے اپنے خداؤں کی قسمیں دے کر پوچھئے کہ کیا کبھی ایک یا سو یا ہزار یالا کھ مصلحین کے ہاتھ پر بھی دلوں کی ناپا کی ایسی عظیم المرتبت پاکیزگی میں تبدیل ہوئی ہو۔اگر وہ کہیں ہاں تو ان سے منہ موڑ لیجئے کہ وہ جھوٹے ہیں اور تاریخ مذاہب کا ایک ایک ورق ان کے کذب پر گواہی دیتا ہے۔آنحضو کے ظہور کے وقت دنیا کے مختلف ممالک میں جس قدر بدیاں رائج تھیں وہ صلى الله صلى الله صلى الله ساری ملک عرب میں پائی جاتی تھیں۔پھر بڑی قیامت یہ تھی کہ گنتی کی جو چند خو بیاں تھیں ان پر بھی تہ بہ تہ بدیوں کا ہی رنگ چڑھا ہوا تھا۔پس آج میں اس پہلو سے حضورت کی قوت قدسیہ کی حیرت انگیز تاثیر پر روشنی ڈالتا ہوں کہ آنحو ﷺ نے عربوں کو صرف ان بدیوں ہی سے پاک نہیں فرمایا جونگی اور ظاہر بدیاں تھیں بلکہ ان کی ان صفات حسنہ پر بھی کار فرما ہوئی جو گو خو بیاں سمجھی جاتی تھیں لیکن در حقیقت ان میں ناپاکی کی اس قدر آمیزش تھی کہ اخلاق حسنہ سے انہیں دور کا واسطہ بھی نہ رہا تھا آنحضور نے ان ایسی تمام صفات کو بھی خالص اور پاک فرمایا اور پھر روحانیت اور تقویٰ اللہ کا رنگ دے کر ایسا چمکایا کہ وہ انمول جواہر کی طرح چمکنے لگیں۔عربوں کی دلیری اور مردانگی ہی کو دیکھئے کہ اس خلق میں عرب بہت مشہور تھے اور ہر قسم کے مصائب کا چیلنج قبول کرنے اور سختیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مردانہ وار آگے آجایا کرتے تھے لیکن در حقیقت ان کی یہ بہادری وحشت اور درندگی کہلانے کی زیادہ مستحق تھی اور حد اعتدال سے ایسا تجاوز کر چکی تھی کہ خدا کا خوف بھی دلوں میں باقی نہ رہا تھا۔ظلم سے ان کے ہاتھ روکنے کی راہ میں کوئی چیز حائل نہ تھی قادر مطلق کی پکڑ اور آخرت کے خیال سے وہ بالکل بے خوف بلکہ نا آشنا تھے۔بے جا شیخی اور فخر اور تعلی نے شجاعت کے حسن کو داغ داغ کر رکھا تھا۔حضور ﷺ نے اس بہادری کی ناپاک الائشوں کو اس طرح کاٹ کر الگ پھینک دیا جیسے بھٹی کپڑے کی میل کاٹ دیتی ہے۔اب اس بہادری میں بے جا فخر اور نمود اور سفا کی کی کوئی ملاوٹ نہ رہی۔اب یہ وہ بہادر تھے جن کی بہادری کا ہر رخ غیر اللہ کی طرف تھا اور جہاں تک خدا تعالیٰ کا تعلق ہے ان کے دل اس کے خوف سے صبح ومساء بھرے رہتے تھے اور قضاء اللہ کوللکارنے کا کیا سوال اس کے خوف سے ان کے پتے پانی ہوتے تھے ، ڈرتے