خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 85

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 55 85 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء قلیل مدت میں بدی کی ہر تاریکی ان سے دور تھی ، ہر ظلمت کی جگہ ایک نور نے لے لی۔شاعر جو کبھی خیال کی وادیوں میں سرگرداں رہا کرتے تھے کلام الہی کا ورد کرنے لگے۔آنحضوع کی ایک جنبش لب سے ایک ہی روز میں ہزار ہا شراب کے مٹکے توڑے گئے ، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیوں میں ہر طرف شراب بہنے لگی اور کہنہ مشق شرابیوں نے شراب سے یک دفعہ منہ موڑ لیا اور مست مہ عرفان رہنے لگے۔فاسق و فاجر عابد وزاہد بن گئے اور دیکھو یہ کیسا ہی انقلاب ہوا کہ وہ اب بھی راتوں کو اٹھتے تو تھے لیکن فسق و فجور کے لئے نہیں بلکہ اپنے رب کے حضور آہ و بکا اور گریہ وزاری کی خاطر۔اس مز کی کے فیض سے پشتوں کے چوروں نے چوری ترک کر دی اور ایک مزدور کی تابناک زندگی کو اس پر ترجیح دینے لگے پھر اسی پر بس نہ تھی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اپنے اموال لٹانے لگے۔چھپ چھپ کر وہ اب بھی تک راتوں کو وہ نکلتے تو تھے لیکن فقط اس لئے کہ ان کا انفاق دنیا کی نگاہوں سے اور وں سے اوجھل رہے۔اللہ اللہ یہ کیسا انقلاب تھا کہ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجدة: ١٧ ) راتوں کو ان کے پہلو اس کے عذاب کے خوف اور رحمت کی طمع میں اسے پکارتے ہوئے بستروں سے الگ ہوتے تھے اور جو کچھ وہ انہیں عطا فرماتا تھا وہ ایک جاری چشمے کی طرح اسی کی راہ میں خرچ کرتے چلے جاتے تھے۔آپ نے جھوٹی عزتوں کا قلع قمع کیا اور غلام زادوں کو سرداران لشکر بنا دیا۔پھر سرزمین عرب نے یہ عجیب دن بھی دیکھے کہ گلیوں میں گھسیٹے جانے والے غلاموں کے جھنڈے تلے سردارن عرب کو جان کی امان ملی اور بلال حبشی کے کانوں نے عمر فاروق کے ہونٹوں سے سنا سید نا بلال ! سیدنا بلال ! آپ نے رسم و رواج کے بندھن توڑے اور سرداران عرب کو رسوم کی غلامی سے آزاد کیا۔نہ جاہلیت کے سنگھار باقی رہے نہ جاہلیت کی نوحہ خوانی اور سادگی اور صبر نے ان کی جگہ لے لی۔رات کی فضول گوئی کی مجالس ویران ہوئیں اور خدا کے گھر قائمین اور راکعین اور ماجدین سے بھر گئے۔ظلم وستم کا دور ختم ہوا اور رحم و کرم کے چشمے پتھر دلوں سے پھوٹ پڑے، ظالموں اور ستم گروں کی دنیا رحیم و کریم بندگان خدا کی دنیا بن گئی۔صدیوں کے بغض و عناد کاٹے گئے اور عفو اور حلم نے ان کی جگہ لے لی قتل ناحق کا رواج مٹ گیا اور قاتل اپنے مقتول کے بارے میں