خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 71

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 71 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ء کالوں اور گوروں کو برکت دیتا ہوا دیں بدلیں، قریہ قریہ پھرا اور اسلام کے شرف اور کلام اللہ کے مرتبہ کو کل عالم پر ظاہر کر دیا۔یہاں تک کہ زمین کے کناروں تک شہرت پا گیا۔اے اہل پیغام! جانتے ہو کہ یہ کون ہے ؟ اے منکرین مصلح موعود ! کیا اس نشان رحمت کو پہچانتے ہو؟ کیا یہ تصویر تم نے کہیں دیکھی ہے؟ دیکھو کہ یہ وہی محمود تو ہے جو مسیح موعود کی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔وہی فرزند دلبند گرامی ارجمند تو ہے جس کے حق میں خدا تعالیٰ نے اپنے مسیح کو بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہوگا ایک دن محبوب میرا کروں گا دور اس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی فسبحان الذي اخزى الاعادي اہل پیغام کے اعتراضات مصلح موعود کی وہ تصویر جو ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی اور سبز اشتہار میں ملتی ہے اور وہ تصویر جو ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃالمسیح الثانی کی زندگی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے باہم دگر ایسی ملتی ہیں کہ ہر نقش دوسرے کے مشابہ ہے اور سوائے اس کے کہ آنکھ کے اندھوں کوسوسو حجاب حائل ہو جائیں ممکن نہیں کہ کوئی اسے پہچان نہ سکے مگر افسوس کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام ہی کی طرف منسوب ہونے والے منکرین خلافت کیسی محجوب نگاہی کا شکار ہیں۔ان میں سے بہت سے یقیناً ایسے بھی ہوں گے جن کی نظر میں شرارت کا قصور نہیں لیکن کچھ ایسے بھی ضرور ہیں جن کی نگاہیں شرارت اور بغض کے سوا اور کسی قصور کی سزاوار نہیں۔جوں جوں آپ کے متبعین اور فدائیوں کا دائرہ بڑھتا چلا جاتا ہے ان کا حسد اور بڑھتا جاتا اور غیظ و غضب اور جوش مارتا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کے سینے ایک کھولتی ہوئی ہنڈیا کی پر عذاب تصویر بنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور سوائے حسد اور عناد کے ابال کے وہاں اور کوئی حقیقت نظر نہیں آئی۔ان کے بعض اعتراض بودے اور بے معنی اور بعض لچر اور پوچ ہیں ، تہذیب واخلاق سے ایسے گرے ہوئے کہ انسانیت کی پست ترین