خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 68

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 80 68 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ ء کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تو ایک بہت بعد میں آنے والے روحانی فرزند کے متعلق ہے۔لیکن اس لحاظ سے ان کی حالت سخت قابل رحم ہے کہ بے چارے ایسے دلائل کے خلاف سر پٹک رہے ہیں کہ جو چٹان سے زیادہ سخت اور مستحکم اور مضبوط ہیں اور اس چٹان کو توڑنے کے لئے جو کچھ ان کے پاس ہے اس کی حقیقت اس جھاگ سے زیادہ نہیں جسے دریا کی شوریدہ لہروں نے کسی چٹان کے قدموں میں لا پھینکا۔ان کا مسلک حماقت در حماقت کا ایک تانا بانا ہے جسے جس پہلو سے بھی دیکھیں ہنسی آتی ہے یا حد سے بڑھی ہوئی حماقت پر رونا۔کس قدر ظلم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ گویا خود آپ کو بھی یہ علم نہ تھا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے کیا نشان رحمت مانگا ہے؟ یہ امران کے لئے فیصلہ کن ہونا چاہئے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو مصلح موعود کی بشارت عطا فرمائی تو آپ نے اور دوسرے سننے والوں نے اس کا کیا مطلب لیا؟ کیا یہ ایک معلوم حقیقت نہیں کہ اس پیشگوئی کے شائع ہوتے ہی کیا موافق اور کیا مخالف ، کیا مسلمان اور کیا ہندو اور سکھ اور عیسائی سب نے بلا استثناء " فرزند دلبند سے مراد ایک عظیم الشان بیٹا لیا جو حضرت اقدس کو بلا فصل عطا ہونا تھا۔چنانچہ سب دنیا کی نگاہیں اس پیشگوئی کے پورا ہونے یا نہ ہونے کی طرف لگ گئیں۔ان سب لوگوں کو تو مان لیا کہ الہام کی تشریح میں غلطی لگ گئی مگر حضور علیہ السلام کے متعلق یہ کیسے مانا جائے کہ آپ کو بھی غلطی لگ گئی تھی۔کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آپ نے اپنے رب سے کیا مانگا ہے؟ پھر کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہی کچھ دینے کا وعدہ فرمایا جو آپ نے اس سے مانگا تھا۔پھر یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ مانگا تو آپ نے پڑپوتا ہومگر انتظار بیٹے کا شروع کر دیا ہو۔میرے پیغامی بھائیو! کچھ تو خدا تعالیٰ کا خوف کرو۔خدا کے واسطے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے ایسی دشمنی نہ کرو کہ ہمیشہ کے لئے انقطاع ہو جائے۔اگر واقعہ میں حضرت اقدس نے بیٹے کی بجائے کچھ اور مانگا ہوتا تو جب ۱۵ اپریل ۱۸۸۶ء کو صاحبزادی عصمت کی پیدائش پر مخالفین نے تمسخر اور تضحیک کا ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا تو کم از کم اسی وقت حضرت اقدس کو یاد آجانا چاہئے تھا کہ کیا غلطی ہو گئی۔آپ کو یاد آجانا چاہئے تھا کہ نہ میں نے بیٹاما نگا تھا نہ خدا تعالیٰ نے ہی بیٹے کا وعدہ فرمایا۔پس اس فروگذاشت کے ازالہ کی خاطر آپ بذریعہ اشتہار یہ اعلان فرما دیتے کہ مجھ سے ایک