خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 67

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 67 کروں گا دور اس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ء بشارت کیا ہے اک دل کی غذادی فسبحان الذي أخزى الاعادي ( در مشین اردو صفحه : ۵۰،۴۹) اہل پیغام مجھے انصاف سے بتائیں۔اگر انصاف سے انہیں کوئی دور کا واسطہ بھی ہے کہ ان اشعار کو سننے کے بعد کیا کسی گھٹیا سے گھٹیا احمدی کے لئے کوئی خفیف سی گنجائش بھی اس امر کی باقی رہتی ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی مبشر اولاد کو نعوذ باللہ فاسق وفاجر اور راہ حق سے بھٹکی ہوئی تسلیم کرے؟ کیا خفیف سے خفیف گنجائش اس امر کی باقی رہتی ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے متعلق بھی یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ نعوذ باللہ ایسا ظالم و بے باک ہوگا کہ بے دھڑک خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے گا؟ نہیں نہیں ایسا مت کہو کہ وہ خدا کا محبوب ہے۔اندھیروں کو اپنے چاند سے چہرہ سے روشن کرنے والا ، ظلمات کو اجالوں میں بدلنے والا وہ ماہ رخ جو اک عالم کا رخ نور اسلام کی طرف پھیر رہا ہے۔کاش وہ سننے کے کان رکھتے اور دیکھنے کی آنکھیں ! یقینا یہ دیکھ کرسخت تعجب ہوتا ہے کہ منکرین خلافت کیوں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ الہ الودود کے حق میں حضرت مسیح موعود کی وہ بشارات سنے اور دیکھنے سے محروم ہیں۔جو ایسی بلند بانگ اور ایسی روشن ہیں کہ ایک کجلائی ہوئی سماعت اور دھندلائی ہوئی بصارت کے لئے بھی ان کا ادراک مشکل نہیں ہونا چاہئے۔اس معمہ کا حل تلاش کرتے ہوئے جب ہم صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اہل پیغام بھی دراصل ایک شدید مشکل میں مبتلا ہیں۔اگر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا موعود بیٹا اور مصلح موجود بھی تسلیم کر لیں تو مصلح موعود کے عقائد بھی درست مانے بغیر چارہ نہیں رہتا اور اس طرح معاً پیغامیت کا تار پود بکھر جاتا ہے۔پس اس مصیبت سے نجات پانے کی انہیں صرف یہی ایک راہ نظر آئی ہے کہ مصلح موعود کا جھگڑا ہی بیچ میں سے نکال دیں اور اس موقف پر ڈٹ جائیں کہ پیشگوئی مصلح موعود کا حضرت اقدس کے اپنے بیٹوں میں سے