خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 57
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 57 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ء پیشگوئی مصلح موعود بر موقع جلسه سالانه ۱۹۶۴ء) ۱۹ ویں صدی کا نصف آخر اس لحاظ سے ہندوستان کی مذہبی تاریخ میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے کہ جس طرح متلاطم سمندر میں کف بلب موجیں ایک دوسرے پر یلغار کرتی ہیں ، ہندوستان کے جملہ مذاہب باہم دگر برسر پیکار تھے اور یہ ملک مذہبی جنگوں کا ایک اکھاڑا بنا ہوا تھا۔یہ ایک ایسا ملک تھا جس میں دنیا کے تقریباً تمام مذاہب کے نمائندے موجود تھے اور یہ سب ایک دوسرے پر فوقیت حاصل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے۔بالخصوص عیسائیت ، ہندو ازم اور اسلام کے مابین تو گھمسان کی جنگیں ہو رہی تھیں۔ان مذہبی جنگوں میں سب سے زیادہ قابل رحم اور دردناک حالت اسلام ہی کی تھی کہ جس کے نبی معصوم پر ہر طرف سے ایسے ناپاک حملے کئے جارہے تھے کہ ان کے تصور سے بھی آج تک دل خون کے آنسو روتا ہے۔مسلمانوں کے پاس ظاہری طاقتوں میں سے کچھ بھی نہ تھانہ حکومت ، نه علم ، نه سیاست، نه اتحاد، نه زور دولت۔رہیں باطنی، اخلاقی طاقتیں تو وہ بھی مدت ہوئی کہ ہاتھ سے جاتی رہی تھیں۔اوج ثریا سے گری ہوئی یہ وہ قوم کہ جس کے کمالات کی گونج کبھی مشرق میں چین کی دیواروں اور مغرب میں سلی کے ساحل سے ٹکرایا کرتی تھی۔ایسی بے زور بے نام اور مفلس و قلاش ہو چکی تھی کہ تہی دامنی میں بھی اس کی مثال نظر نہ آتی تھی۔یہ قوم تھی کہ جو اپنی مذہبی، اخلاقی ، سیاسی ، معاشی اور علمی اقدار کی حفاظت نہ کر سکی یہاں تک کہ روحانیت اور عرفان کی دولت