خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 56

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 56 60 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء اپنے آسمانی باپ کے حضور دعائیں کرتا رہا کہ اس لعنت کے پیالے کو مجھ سے ٹال دے کہ مجھ میں یہ برداشت کرنے کی طاقت نہیں اور صلیب کی سختیوں میں بھی اس کے ناتواں جسم سے یہ پکار اٹھتی رہی کہ ایلی ایلی لما سبقتانی“۔پس عیسائی نظریہ کفارہ کو کسی بھی پہلو سے دیکھیں وہ محض لغویات کا ایک انبار نظر آتا ہے اور ایک عام انسان کو انہیں دیکھ کے ہنسی آجاتی ہے۔لیکن اس دردناک حقیقت کو ہرگز بھلایا نہیں جاسکتا که در اصل یہ انسی کی بات نہیں، یہ خدا تعالیٰ کی پاک ذات پر ایک ایسا بہتان ہے کہ قریب ہے کہ اس سے زمین و آسمان پھٹ پڑیں۔دیکھو کہ حضرت محمد مصطفی میت کو خدا تعالیٰ نے اس عقیدہ کے بد نتائج سے جب آگاہ کیا تو آپ کو کوئی ہنسی نہیں آئی، کوئی تقسیم اس معصوم چہرے سے نہیں کھلا بلکہ آپ کا دل یہ عقیدہ رکھنے والوں کی ہلاکت کے خیال سے ایسا دردمند ہوا کہ خود خدا کا عرش بھی پکار اٹھا کہ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الكهف :) کہ اسے محمد ؟ کیا تو اپنے آپ کو اس غم میں ہلاک کر دے گا کہ یہ تو میں مجھ پر بہتان باندھ کر ہلاک ہو رہی ہیں۔غرض اے توحید کے پرستارو! اگر تم واقعی اس غلط اور بیہودہ عقیدہ کو دنیا سے مٹانا چاہتے ہو تو صلیب کی کمر توڑنے کے لئے ضروری ہے کہ تم اپنی نفسانی خواہشات کی کمریں توڑ دو اور اسی طرح غم محسوس کرو، اسی طرح دیکھ محسوس کرو جس طرح حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ان لوگوں کی خاطر محسوس کیا تھا۔اگر تم یہ کرنے کے لئے تیار ہو تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ زمین کا ذرہ ذرہ تمہارے ساتھ یہ گواہی دیگا کہ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا (الکھف:1) که وہ بات بڑی جھوٹی اور بے بنیاد ہے جو یہ کہتے ہیں، خدا کی قسم وہ جھوٹ کہتے ہیں۔