خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 3

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 3 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ء پسماندہ قوم کو اٹھا کر ایک اعلیٰ اور ارفع مقام پر پہنچا دیا تھا۔نبی کے بعد نبی آیا اور نبی کے بعد نبی گزر گیا اور انہوں نے بنی اسرائیل کو جو ایک پسماندہ قوم تھی اس کو ایسے اعلیٰ اور ارفع مقام تک پہنچایا کہ خود خدا تعالیٰ نے انہیں مخاطب ہو کر کہا کہ اے میرے بندو ! آج میں نے تمہیں تمام جہان پر فضلیت دے دی ہے فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ (البقرة : ۸۴) کہ آج بنی نوع انسان میں تم سے زیادہ فضیلت والی کوئی قوم نہیں ہے۔لیکن اس قوم نے جب اپنی جدو جہد کے پر سمیٹ لئے ، جب انہوں نے اپنی تربیت چھوڑ دی ، جب انہوں نے کوشش ترک کر دی تو وہی قوم دیکھئے کتنی بلندیوں سے گرتی ہے۔اتنی بلندیوں سے گری، اتنی بلندیوں سے گری اور خدا کی نظر سے ،خدا کی رضا کی آنکھ سے اتنا گر گئی کہ خود اسی خدا نے جس نے انہیں کبھی سارے جہان پر فضیلت دی تھی ان کو تمام زمانوں کے لئے عبرت بنادیا اور آنے والی قومیں ان پر لعنت کرنے لگیں اور سورہ فاتحہ میں خدا نے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہی لوگ ہیں ، وہی افضل قوم ہے کہ جو آج الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتح : ) میں شمار ہونے لگی ہے۔اس لئے اگر چہ یہ صیح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری تربیت کی اور ہمیں اٹھایا اور بلند کیا لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم اس بلند مقام پر قائم رہیں، ضروری ہے کہ ہم جد و جہد کریں ضروری ہے کہ ہم قربانیاں دیں اور اس مقام کو قائم رکھیں۔حضرت رسول اکرم ﷺ کے تربیت یافتہ مسلمانوں سے زیادہ خدا کوکس سے پیار ہوسکتا تھا؟ رسول اکرم ﷺ نے اس عرب کی پسماندہ قوم کو اتنا اٹھایا ایسے شاندار مقامات دکھائے کہ ثریا ان کے پاؤں چومنے لگی لیکن وہی قوم تھی وہی لوگ تھے جو کبھی آسمان سے باتیں کیا کرتے تھے لیکن جب انہوں نے اپنی تربیت کی آنکھیں بند کر لیں اور نگرانی کی آنکھیں بند کرلیں اور تربیت کی کوشش بند کر دی تو وہ لوگ دیکھتے گرتے گرتے کیسا گرے کہ ثریا پر اپنا ایمان چھوڑ آئے اور تحت الثری میں جا گرے اور ایسا گرے کہ چہار دانگ عالم میں ان کے پرزے اڑ گئے اس لئے آپ خدا تعالیٰ کو ان مسلمانوں سے زیادہ پیارے نہیں ہو سکتے۔آپ کو بھی اپنی نگرانی کرنی پڑے گی اور بڑی سخت نگرانی کرنی پڑے گی ، جد و جہد کرنی پڑے گی اور بڑی سخت جد و جہد کرنی پڑے گی کیونکہ ترقیات کو حاصل کرنا اگر چہ بہت ہی مشکل کام ہے لیکن ترقیات کو قائم رکھنا غالبا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ایک