خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 53
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 53 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء گردن اس کے پھندے میں آتی ہے اسے پھانسی دے دو۔پس اگر یہ کائنات اندھیر نگری ہے اور نعوذ باللہ اس کا ئنات کا خدا چوپٹ راجہ ہے تو پھر یہ ضرور ممکن ہے کہ بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کی سزا میں خدا کے معصوم بیٹے کو تختہ دار پر چڑھا دیا جائے لیکن اگر ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اے عیسائیو! اپنے خالق اور مالک پر یہ ظلم نہ توڑو، اس رحیم و کریم پر یہ افتراء نہ باندھو اور اسے کائنات کی سب سے زیادہ ظالم ،سفاک اور غیر عاقل ہستی کے طور پر پیش نہ کرو۔کیوں عدل کے نام پر اسے ظالم قرار دیتے ہو اور عقل کے نام پر غیر عاقل؟ کفارہ کی اس آخری امکانی صورت پر پھر اس شخص کی مثال یاد آجاتی ہے جو اسی شاخ کو کاٹ رہا تھا جس پر وہ بیٹھا ہوا تھا مگر اس غریب نے تو یہ غلطی ایک بار کی ہوگی کفارہ کا نظریہ بار بار اسی شاخ کو کاٹتا ہے جس پر بیٹھتا ہے اور اسی عدل کی بنیاد کو اکھیڑتا ہے جس پر نجات کی موہومہ عمارت تعمیر کی گئی ہے۔اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ عیسائیت کا خدا اس قسم کا عدل جاری کر سکتا ہے کہ زید کا گناہ بکر کے سر پر لاد دے تو یہ تسلیم کرنے کے باوجود بھی عیسائی نظریہ کفارہ عقل کی حد سے باہر ہی رہتا ہے اور اعتراضات عقلی کی زد سے باہر نہیں نکلتا۔اس آخری صورت کو تسلیم کرنے سے مسئلہ کی شکل یہ بنتی ہے کہ چونکہ خدا عادل ہے اس لئے ضروری ہے کہ گناہ کا بدلہ یعنی اس کی سزا دے۔خدا عادل ہے اس لئے معاف نہیں کر سکتا اور ضروری ہے کہ گناہ کی سزا دے۔کیونکہ وہ محبت بھی ہے اور رحم بھی اس لئے سزا دینا نہیں چاہتا۔یہ امر اس کے عدل کے منافی نہیں ہے کہ زید کی سزا بکر کو دے دے۔چونکہ اس کا اپنا بیٹا معصوم ہے اور دوسرا کوئی سزا لینے کا اہل نہیں اس لئے تمام انسانوں کی سزا اس معصوم کو دے کر ان کی گردنوں کو اس لعنت کے طوق سے آزاد کر دیتا ہے۔پانچ نکات پر مبنی کفارہ کی اس صورت کو اگر اسی طرح تسلیم بھی کر لیا جائے تو صرف ایک سوال باقی رہ جائے گا کہ یہ دیکھا جائے کہ سزا قبول کرنے والا وجود اس بات کا اہل بھی ہے کہ اس سزا کو برداشت کر سکے۔دیکھئے اتنی عقل تو اس چوپٹ راجہ میں بھی تھی کہ اس نے بڑے پھندے سے پتلی گردن والے شخص کو پھانسی دینے کی کوشش نہیں کی۔دوسرا یہ کہ اس امر کی پوری پوری نگرانی کی جائے کہ جتنی سزا واجب ہے اتنی ہی سزا اس قربانی کرنے والے کو دی جائے لیکن عملاً عیسائیت اس سزا کے قصہ کو جس رنگ میں پیش کرتی ہے۔وہ بالکل اس کے برعکس ہے۔