خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 52
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 52 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء نہیں جاسکتے یا مزید سزا کے بوجھ اس پر لا دے نہیں جاسکتے۔اول تو یہ محض ایک دعوئی ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔دوسرے اگر اسے مان بھی لیا جائے تو اس کا آسان حل تو یہ تھا کہ شیطان کو پکڑ کر انسان کے گناہوں کا کفارہ بنادیا جاتا نہ کہ یہ کہ خدا کے بھولے بھالے معصوم بیٹے کو انسان کی بدکاریوں کے بدلہ میں صلیب کی اذیتیں دے کر مارا جاتا۔اگر عیسائیت یہ فرضی دعوی کرے کہ شیطان کے گناہ بھی اتنے ہی زیادہ تھے اور سزا برداشت کرنے کی طاقت اتنی ہی محدود کہ وہ بھی آدم اور بنی آدم کے گناہوں کی سزا بھگت کر انہیں اس سے نجات نہیں دلا سکتا تھا تو اس لئے بہر حال ایک معصوم قربانی ہی کو ڈھونڈ نا پڑے گا۔اگر ہم کچھ دیر کے لئے یہ صورت تسلیم کر لیں تو اس بات کی پڑتال تو بہر حال نہایت ہی ضروری ہوگی کہ اس معصوم کی سزا برداشت کرنے کی اہلیتوں کا پورا پورا جائزہ لیا جائے اور اسے بعینہ اتنی سزادی جائے جتنی سزا تمام بنی آدم کے لئے مقرر کی گئی تھی۔لیکن اس چھان بین سے پہلے یہاں ایک لطیفے کا بیان بے جانہ ہوگا جس کی یاد اس موقع پر خود بخود ذہن میں ابھر آتی ہے۔کہتے ہیں کہ ایک نگری تھی جسے اندھیر نگری کہا جاتا تھا اور اس نگری کا ایک راجہ تھا جسے چوپٹ راجہ کہتے تھے۔اس نگری میں بھی ایک قسم کا مشینی انصاف چلتا تھا اور عدل اور مساوات کا یہ عالم تھا کہ ہر چیز مٹی ہو یا پھر یا سونا یا مٹھائی دو پیسے سیر بکا کرتی تھی۔وہاں ایک روز مشتبہ حالات میں ایک آدمی قتل ہوا پایا گیا اور قاتل پکڑا نہ گیا۔پولیس نے راجہ کے عدل کے تقاضا کو پورا کرنے کی خاطر ایک شخص کو شبہ میں گرفتار کر لیا۔اس نے کوئی عذر پیش کیا انہوں نے ایک اور کو پکڑ لیا اور اس نے کوئی عذر پیش کیا انہوں نے ایک اور کو پکڑ لیا چنانچہ ایک لمبی کہانی ہے تان اس کی یہاں آکر ٹوٹتی ہے کہ وہ آخری شخص جو قاتل قرار دیا گیا اس غریب کا اس قتل میں اتنا بھی ہاتھ نہیں تھا جتنا مسیح کے افعال کا ہمارے گناہوں میں ہو سکتا ہے لیکن چونکہ آدمی مارا گیا تھا اس لئے اس کے بدلہ میں کسی آدمی کی جان لی جانی ضروری تھی۔بادشاہ نے خاص شاہی فرمان کے ذریعہ اسی لئے اسے تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ دے دیا لیکن جب پھانسی کا پھندہ اس کی گردن میں ڈالا گیا تو معلوم ہوا کہ اس نا تو ان کی گردن اتنی سوکھی ہوئی ہے کہ موجود پھندے سے اسے پھانسی دی ہی نہیں جاسکتی اور ملک کا عدل بے قرار تھا کہ بغیر تاخیر کے مقتول کا انتقام لیا جائے۔چنانچہ جب اس عادل راجہ کے حضور اس دشواری کو پیش کیا گیا تو اس نے فیصلہ فرمایا کہ اچھا اگر اس کی گردن پھندے میں نہیں آتی تو پھر جس کی