خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 437
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 437 غزوات النبے میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء تو اپنے بھیا نک مستقبل کے خیال سے اس کے ہوش و حواس جاتے رہے اور ایک ایسی حرکت اس سے سرزد ہوئی کہ عام حالات میں وہ کبھی ایسی حرکت نہ کر سکتا تھا۔اس نے یہ سمجھا کہ آنحضور تو مجھے پناہ نہیں دیتے ہاں صحابہ کا یہ جھرمٹ جن کی آنکھیں میرے لئے اشکبار اور خون آلود ہیں شاید یہی مجھے پناہ دے دیں۔پس اس نے آخری اپیل آنحضور سے نہیں بلکہ صحابہ سے کی اور بڑی گریہ وزاری کے ساتھ ان کی منت کرنے لگا کہ دیکھو! اپنے مظلوم اور لاچار اور ستم رسیدہ بھائی کو بھیٹریوں کے منہ میں واپس نہ بھیجو۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه : ۸۸) یہ ابوجندل کی کم فہمی تھی۔بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ صحابہ اپنے امام سے آگے بڑھ کر کسی کو بچانے کی کوشش کرتے ؟ ان کو تو تعلیم ہی پیچھے چلنے کی تھی؟ ان کی تو زندگی کا انحصار اس بات پر تھا کہ قدم قدم محمد مصطفی کے پیچھے پیچھے چلیں۔پس کوئی ٹس سے مس نہ ہوا، کہیں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ہاں حضرت علیؓ کا قلم بو جھل دل کے ساتھ پھر حرکت میں آیا اور معاہدہ کی رکی رکی تحریر پھر سے چل پڑی۔تب آنحضور نے ابوجندل کو مخاطب کر کے فرمایا جاؤ اور اللہ پر توکل رکھو وہ تمہارے لئے کوئی نجات کی صورت نکالے گا۔ابو جندل چلے گئے لیکن ایک دل میں کھٹکنے والی بات پیچھے چھوڑ گئے۔اس بات کو پڑھ کر آج بھی تعجب ہوتا ہے کہ آخر انہیں کیا سوجھی کہ آنحضور کو چھوڑ کر براہ راست صحابہ سے اپیل کرنے لگے؟ لیکن نہیں اس حالت میں یقیناً وہ بے بس اور بے اختیار تھے شاید مصائب کی شدت نے انہیں مختل کر دیا تھا اور وہ بے سوچے سمجھے اس طرح ہاتھ پاؤں مار رہے تھے جیسے ڈوبتا ہوا تنکوں کا سہارا ڈھونڈتا وصلى الله ہے۔اگر سوچ کی ادنی سی قوت بھی ان میں ہوتی تو وہ یقینا جان لیتے کہ محمد سے بڑھ کر صحابہ نے بھلا ان پر کیا رحم کرنا تھا؟ رحم کی تعلیم تو دبستان محمد ہی سے انہوں نے پائی تھی۔نرمی اور شفقت اور رافت کے سبق تو خود آنحضور نے ہی انہیں پڑھائے تھے۔جب تک محمد مصطفی سال کے اعجاز نے انہیں دل نہ عطا کئے ان کے سینوں میں بھی تو ویسے ہی پتھر دفن تھے جیسے اس کے باپ سہیل کے سینہ میں تھا۔وہ بھول گیا کہ آج ان پتھروں سے جو رحمت کے چشمے پھوٹتے ہوئے اس نے دیکھے وہ آنحضور کی لمس کا ہی تو کرشمہ تھا۔اسے یاد نہ رہا کہ یہ ہمدردی کے پتلے جنہیں آج وہ اصحاب محمد کی صورت میں دیکھ رہا ہے کل تک وہی صحرائے عرب کے وحشی ہی تو تھے جو اپنی ہی معصوم بچیوں کو زندہ الله