خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 416
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 416 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غز واحدیبیہ ) ۱۸۹۱ء مغیرہ کے اسلام لانے سے قبل عروہ نے ان پر اتنا بڑا احسان کیا ہوا تھا کہ ان کے دس مقتولوں کا خون بہا خود اپنی جیب سے ادا کر کے ان کی جان بچائی تھی۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ: ۶۷) اس کے علاوہ عروہ نے بڑے تعجب سے یہ عجیب نظارہ بھی دیکھا کہ آنحضوں جب کلی بھی فرماتے تو صحابہ اسے زمین پر گرنے نہ دیتے اور والہانہ آگے بڑھ کر اپنے ہاتھوں میں لے لیتے پھر اس تبرک کو چہرے اور سینے پر مل کر دل ٹھنڈا کرتے۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ: ۷۰) پس دوران گفتگو بظاہر تو وہ سخت گیر رہا لیکن اندر ہی اندر آنحضو کی عظیم شخصیت سے بے حد متاثر ہو چکا تھا اور سمجھ چکا تھا کہ باہم دگر برسر پیکار رہنے والے مختلف قبائل عرب کا اس طرح ایک قالب اور ایک جان ہو کر ایک انسان پر پروانوں کی طرح جان نچھاور کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں چنانچہ اس نے قریش سے وہی بات کہی جو پہلے قاصد کہہ چکے تھے اور مزید اس پر ان تاریخی کلمات کا اضافہ کیا کہ ”اے معشر قریش! مجھے کسریٰ اور قیصر اور نجاشی کے درباروں میں بھی باریابی کا شرف حاصل ہو چکا ہے لیکن بخدا میں نے کبھی کسی فرمانروا کو اس کی قوم میں ایسا محترم اور معزز نہیں پایا جتنا محمد ﷺ کو اپنی قوم میں۔پس تم جو چاہو فیصلہ کر ولیکن یہ وہم دل سے نکال ڈالو کہ اس کے ساتھی کسی وقت بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے“۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحہ: ۷۰) پہلا سفیر مشرکین مکہ کی طرف سے پے در پے چار قاصدوں کے آنے کے بعد آنحضور ﷺ نے اپنا قاصد مکہ بھجوانے کا فیصلہ فرمایا اور اس غرض سے ابن الحق کی روایت کے مطابق خراش بن امیہ خزاعی کو اپنے تعلب نامی اونٹ پر سوار کر کے قریش کی طرف روانہ فرمایا۔اس واقعہ کی توضیح کرتے ہوئے مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے یہ قدم اس لئے الله اٹھایا کہ غالباً آپ کو یہ شک گزرا کہ قریش کے سفیروں نے وہاں جا کر غلط قسم کی باتیں کر دی ہوں گی لہذا مناسب تھا کہ خود آپ کا اپنا سفیر جاکر مسلمانوں کا اصل مدعا ان پر ظاہر