خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 384
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 384 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء کے فاتح ! تجھ پر سلام ہو۔اے بے مثل مظفر و منصور! قیصر کے سرخ محلات کے دروازے تجھ پر کھولے جاتے ہیں اور یمن اور کسری کے رفیع الشان قلعوں کی چابیاں تجھے سونپی جاتی ہیں۔خلق محمدی کا ایک اور حسین نظارہ ذکر گزر چکا ہے کہ جب چٹان کے شق ہونے کا واقعہ گزرا تو آنحضور ﷺ اور آپ کے صحابہ اس وقت تین دن کے فاقہ سے تھے۔اس وقت حالت یہ تھی کہ جب بعض صحابہ نے بھوک کی حد سے بڑھی ہوئی تکلیف کی شکایت کی اور اپنے پیٹ سے کپڑا اُٹھا کر دکھایا کہ یا رسول اللہ ! دیکھیں کہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہم پیٹ پر پتھر باندھے پھرتے ہیں تو آنحضور نے بھی جواب میں اپنے پیٹ سے کپڑا اُٹھا کر دکھایا اور صحابہ نے دیکھا کہ آپ کے پیٹ پر تو ایک نہیں دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔(شمائل ترمذی) نحو ضبط و تحمل اور صبر کا ایک شاہکار تھے۔پس اگر سائل کی تسلی مقصود نہ ہوتی تو غالباً کبھی آنحضور اپنی اندرونی کیفیت سے دوسروں کو آگاہ نہ فرماتے لیکن آنحوی کے صبر کے اس راز کو افشاء کرنے میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کام کر رہی تھی اور جو آنحضو کے بے پناہ حسن کے بعض اور پہلوؤں سے بھی پردہ اُٹھانے والی تھی اور ہمیشہ کے لئے بنی نوع انسان پر یہ روشن کر دینا چاہتی تھی کہ کیوں خدا کا بندہ جو اپنے رب کو ہر دوسرے وجود بلکہ ساری کائنات سے زیادہ پیارا ہے اور کیوں یہ خارق عادت معجزہ اس کے ہاتھ پر بار بار ظاہر ہوتا ہے کہ قوانین قدرت اس کی مرضی کے تابع کر دیئے جاتے ہیں؟ جس وقت آنحضور ﷺ کی ضربات سے چٹان ٹوٹنے کا معجزہ ظہور میں آیا رت جابر بھی وہاں موجود تھے۔جب آپ کو پتہ چلا کہ آنحضور نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا اور آپ کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے ہیں تو وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے گھر جا کر کچھ کھانے کا بندوبست کروں۔چنانچہ آپ نے اجازت دے دی۔کہتے ہیں میں نے گھر آکر بیوی سے کہا کہ میں نے آنحضر کی ایسی حالت دیکھی ہے کہ میں اس پر صبر نہیں کر سکا۔کیا کچھ کھانے کو ہے؟ میری بیوی نے جواب دیا۔کچھ جو ہیں اور یہ بکری کا بچہ ہے۔