خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 383
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 383 غزوات النبی اے میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ پر مسلمانوں کی عظیم فتوحات کی خبریں نور کی روشنائی سے جلی حروف میں لکھی ہوئی تھیں اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک پیغام تھا کہ اے عظیم سلطنت کسری کے فتح کرنے والو! اور اے مشرقی سلطنت روما کی بے پناہ طاقت زیروز بر کرنے والو! اور قسطنطنیہ کے سرخ محلات کے فاتحین ! اور اے وہ فتح نصیب اسلامی لشکر ! جن کی یورش سے صنعاء کے قلعوں کے دروازے توڑے جائیں گے کبھی یہ گمان نہ کرنا کہ یہ عظیم فتوحات تمہارے زور بازوؤں کا نتیجہ ہے۔نہیں نہیں ! یہ نتیجہ ہے میرے بندے کے اس ایثار اور قربانی اور انکسار کا اور اس بے پناہ قوت برداشت کا جو احزاب کے پر آشوب زمانہ میں اس نے دکھائی تھی۔غزوہ احزاب تاریخ عالم کے جس دور میں واقعہ ہے اس دور میں حجاز دنیا کے دیگر ممالک کے مقابل پر ایک نہایت کمزور اور بے زور ملک تھا۔جس کا دنیا کے متمدن اور طاقتور ملکوں میں کوئی شمار ہی نہ تھا۔اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ذرا اندازہ کیجئے کہ پھر مسلمانوں کی کمزوری کا کیا عالم ہوگا کہ مدینہ کے چھوٹے سے شہر میں عرب کے چند قبائل کے گھیرے میں آکر دنیاوی اعتبار سے کیسے بے زور اور بے طاقت اور بے بس نظر آرہے ہیں ان عربوں کے مقابل پر بے بس نظر آرہے ہیں جو خودا پنی ہمسایہ طاقتوں کے سامنے محض بے حیثیت اور عاجز اور ذلیل وخوار تھے۔جن کے شمال مغرب میں قیصر کی بے پناہ قوت سر بفلک پہاڑوں کی طرح بلند تھی ، جن کے مشرق میں کسری کے محل آسمان سے باتیں کر رہے تھے اور جن کے جنوب میں یمن کے محلات اپنے بلند و بالا کنگروں کے ساتھ عرب کی پستی اور فلاکت اور نکبت کا مذاق اُڑا رہے تھے۔تو پھر کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ جب والے اپنے نڈھال جسم کو ایک مافوق البشر عزم اور ہمت کا سہارا دیئے ہوئے اس چٹان کی طرف بڑھ رہے تھے تو خدائی تقدیر یہ اعلان کرنے کو تھی کہ اے میرے بندے! یہ چٹان کیا چیز اور اس کی حیثیت کیا ! ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ تیرے غلاموں کے پاؤں کی ٹھوکروں سے شمال و جنوب، مشرق و مغرب کی دنیاوی طاقتوں کے بلند و بالا پہاڑ بھی ٹوٹ کر چکنا چور ہو جائیں گے۔ایک چٹان کیا اور اس کی سرکشی کیا ! ہم تجھے وہ قوت اور عظمت اور ہیبت عطا کریں گے جو بڑے سے بڑے سرکشوں کے سرخم کر دے گی اور پہاڑوں کے سینے چیر دے گی۔پس اے شمال و جنوب مشرق و مغرب