خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 365

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 365 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء اجازت نہ دی لیکن جب انہوں نے صبر کا وعدہ کیا تو اجازت فرما دی۔حضور کے ارشاد پر روکنے والوں نے جب حضرت صفیہ کا راستہ چھوڑ دیا تو وہ حضرت حمزہ کے مقتل پر حاضر ہوئیں اور شیر خدا اور شیر رسول اپنے پیارے بھائی کی لاش اس حالت میں سامنے پڑی دیکھی کہ ظالموں نے سینہ پھاڑ کر کلیجہ نکال لیا تھا اور چہرے کے نقوش بھی بری طرح بگاڑ دیئے تھے۔ہر چند کہ سینہ غم سے بیٹھا جاتا تھا۔حضرت صفیہ اپنے صبر کے وعدہ پر قائم رہیں اور ایک کلمہ بے صبری کا منہ سے نکلنے نہ دیا۔لیکن آنسوؤں پر کسے اختیار تھا۔اِنَّا لِلہ پڑھا اور روتے روتے وہیں بیٹھ گئیں۔حالت یہ تھی کہ غمزدہ خموش آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔راوی کہتا ہے کہ آنحضور بھی پاس بیٹھ گئے۔آپ کی آنکھوں سے بھی بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔جب حضرت صفیہ کے آنسو مدھم پڑتے تو حضور کے آنسو بھی مدھم پڑ جاتے۔جب حضرت صفیہ کے آنسو تیز ہوتے تو آنحضور کے آنسو بھی تیز ہو جاتے۔چند منٹ اسی حالت میں گزرے۔( شروح الحرب ترجمہ فتوح العرب صفحہ: ۳۸۴۔۳۸۶۔السیرۃ الحلبیہ ذکر غزوة احد جلد ۲ صفحہ: ۲۰۶ ۲۰۷) پس آنحضور اور اہل بیت کا نوحہ ان چند خاموش آنسوؤں کے سوا اور کچھ نہ تھا اور یہی سنت نبوی ہے۔مدینہ میں داخل ہونے کا منظر آپ مدینہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ تمام مدینہ ماتم کدہ بنا ہوا تھا اور گھر گھر سے شہدائے احد کی یاد میں نوحہ گروں کی آوازیں بلند ہورہی تھیں۔حضور نے سنا تو بڑے درد سے فرمایا اما حمزة فلا بواكى لۂ یعنی حمزہ کو تو کوئی رونے والا نہیں۔ہاں حمزہ کو رونے والا ہو بھی کون سکتا تھا کہ اہل بیت کو تو صبح و شام صبر کی تلقین ہوا کرتی تھی۔حضرت حمزہ کی بہن ایک صفیہ تھیں جن کو بھائی سے شدید محبت تھی مگر آنحضور خود بخش دکھانے سے قبل ان سے صبر کا وعدہ لے چکے تھے۔بہر حال حضور کے اس درد بھرے فقرے کو جب بعض انصار نے سنا تو تڑپ اٹھے اور گھروں کی طرف دوڑے اور بیبیوں کو حکم دیا کہ ہر دوسرا ماتم چھوڑ دو اور حمزہ پر ماتم کرو۔دیکھتے دیکھتے ہر طرف سے حمزہ کے لئے آہ و بکا کا ایک شور بلند ہوا اور ہر گھر حمزہ کا ماتم کدہ بن گیا۔( شروح الحرب ترجمہ فتوح العرب صفحہ: ۴۱۴) انصار بیبیاں حمزہ کے نوحے پڑھتی اور آنسو بہاتی۔آنحضور کے رحمت کدہ پر اکٹھی ہو گئیں۔آنحضور نے شور سن کر باہر دیکھا تو انصار بیبیوں کی ایک بھیڑ لگی ہوئی تھی۔حضور نے ان کی ہمدردی پر ان کو دعا