خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 32

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 32 32 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱۰ ۱۸۶۲ء میں پاسچر (Louis Pasteur) نے اپنے ٹھوس تجربوں اور نا قابل تردید دلائل پیش کر کے اس دلچسپ بحث کا خاتمہ کر دیا اور ان سائنسدانوں نے ہمیشہ کے لئے ہتھیار ڈال دیئے جو یہ کہتے تھے که زندگی مردہ چیزوں سے خود بخود پیدا ہوئی ہے۔شروع میں بھولے بھالے مذہبی لوگوں نے سمجھا کہ یہ نظریہ خدا کے تصور کے خلاف ہے اور انہوں نے دل کھول کر اس کی مخالفت کی اور کفر کے فتوے لگائے مگر آہستہ آہستہ اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا اور بہت سے خدا کے قاتل سائنسدان دھڑلے سے اس امر کو خدا کی ہستی کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے لگے۔در حقیقت آج بھی یہ انکشاف خدا تعالیٰ کی ہستی کا ایک ایساز بر دست ثبوت ہے کہ منکرین آج تک اس کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں دے سکے۔خدا کے قائل یہ کہتے تھے اور آج تک کہتے ہیں کہ جب زندگی مردہ سے خود بخود پیدا ہو ہی نہیں سکتی تو پھر تم اسے خود اپنا رب کس طرح قرار دے سکتے ہو؟ لازماً ایک بیرونی ہستی کو رب قرار دینا پڑے گا۔اس کے جواب میں بعض سائنسدانوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ دراصل زندگی پیدا ہوئی نہیں بلکہ قدیم سے ہے۔یہ بعینہ وہی عقیدہ ہے جو آریہ تسلیم کرتے ہیں۔آریوں کے نزدیک بھی روح اور مادہ دونوں قدیم ہیں اور کبھی پیدا نہیں ہوئے۔آریوں کے لئے تو یہ کہنا کچھ مشکل نہیں تھا کیونکہ وہ گھر بیٹھے جو مرضی کہتے رہتے اور مشاہدات قدرت سے بے نیاز ہو کر جو چاہتے فلسفہ پیش کر دیتے۔مگر سائنسدان چونکہ اپنے نظریات کی بنیاد معلوم مشاہدات پر رکھتے ہیں ان کی راہ میں اس نظریہ کو پیش کرنے میں بعض سخت مشکلات حائل تھیں۔سب سے بڑی مشکل تو یہ تھی کہ یقینی طور پر یہ زمین کبھی ایک پگھلا ہوا سیال مادہ تھی اور جیسا که قرآن کریم بھی بیان فرماتا ہے سیال حالت سے پہلے یہ ایک دھویں کی صورت میں تھی اور اس وقت اس کا درجہ حرارت اتنا زیادہ تھا کہ کسی چیز کا اس گرمی میں زندہ رہنا اس سے بھی زیادہ ناممکن تھا کہ کوئی مکھی پگھلے ہوئے لوہے میں زندہ رہے۔اس لئے لاز م وہ یہ تسلیم نہیں کر سکتے تھے کہ زندگی اس دنیا پر ہمیشہ سے موجود تھی۔چنانچہ اس مشکل سے بچنے کے لئے بعض دہر یہ سائنسدانوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ زندگی زمین کے اندر کسی دوسرے ستارے یا خلا سے اس وقت نازل ہوئی تھی جب زمین ٹھنڈی ہوکر اس قابل ہو چکی تھی کہ اس میں چیزیں زندہ رہ سکیں۔اس نظریہ پر ایک تو لازماً یہ اعتراض پڑتا تھا کہ پھر ان بیرونی ستاروں یا خلا میں زندگی کہاں سے آئی ؟ مگر بہر حال بیسیوں سال تک یہ