خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 272
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 272 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء نہیں مل سکتا تھا۔اتنی تکلیفیں انہوں نے اٹھا ئیں ہیں احمدیت کے لئے کہ آپ ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔حالت یہ تھی کہ اسلام کو پھیلانے کا جوش ایسا تھا کہ لوگوں میں تبلیغ کرتے ، وہ ان کو مار مار کر ادھ موا کر کے گلیوں میں پھینک دیا کرتے تھے۔رات کتے زخم چاٹتے رہتے تھے انکے۔صبح اٹھتے ، اپنے زخم بینچ کر پھر تبلیغ اسلام میں مصروف ہو جاتے۔سالہا سال کی دکھوں کی زندگی ہے جس میں سے کچھ باتیں کہی گئی ہیں کچھ ان لکھی ہیں، ان کہی ہیں جن کو صرف خدا جانتا ہے۔حضرت مولوی رحمت علی صاحب: آج ہی آپ نے انڈو نیشیا کے ایک بڑے ہی ہمارے جلیل القدر بزرگ کی تقریر سنی تھی انگریزی میں۔یہ پھل کن قربانیوں کے ہیں؟ ان کی طرف بھی تو دیکھئے ! کہنا تو آسان ہے کہ ساری دنیا میں تبلیغ ہورہی ہے، اسلام پھیل رہا ہے لیکن کس طرح پھیلا ؟ کس طرح وہ تبلیغ شروع ہوئی ؟ کس لمبی قربانی کے نتیجے میں یہ شیریں انشمار جماعت احمدیہ کو ملے؟ انکی طرف بھی نگاہ کیجئے۔مولوی رحمت علی صاحب کے متعلق حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ذکر فرمایا کرتے تھے دوباتوں کا۔بچہ انکا چھوٹا تھا جب آپ چلے گئے۔جب باقی اردگرد کے باپ باہر جاتے اور بچوں کے لئے تحفہ لایا کرتے تو یہ اپنی ماں کے پاس جا تا بچہ اور رو کر کہتا کہ ہمارے ابا کب آئیں گے۔وہ کیوں کچھ ہمارے لئے نہیں لاتے ؟ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ان کی ماں کی بسا اوقات آواز بھر جاتی تھی اور اپنی دانست میں جس طرف انڈونیشیا ہوتا تھا اس طرف اشارہ کر کے کہہ دیا کرتی تھی کہ تیرے ابا وہاں بہت اچھے کام پر گئے ہوئے ہیں۔دوسری بات انکے متعلق حضور نے بیان کی وہ بھی عظیم الشان ہے۔جب مولوی رحمت علی صاحب کو بہت لمبے عرصے کے بعد حضور نے واپس بلانے کا فیصلہ کیا تو یہی بوڑھی بیوی جس نے عملاً بیوگی کی زندگی اختیار کی، جس کی آنکھوں کے سامنے بچوں نے یتم کی حالت میں زندگی بسر کی تھی۔خوشی سے دوڑتی ہوئی شکریہ ادا کرنے نہیں آئی کہ شکر ہے آپ نے آخر میرے خاوند کو بلا لیا۔بلکہ روتی ہوئی یہ عرض کرنے گئی کہ اے امام ! تیرا احسان ہے ہم پر کہ خدا کے دین کی خاطر تو نے قربانیاں لیں۔میری ایک ہی خواہش تھی اور اسے بھی پورا کر دیجئے۔میری خواہش یہ ہے کہ اب میرا خاوند مجھے سے جدا رہ کر دین اسلام کی خدمت میں ہی باہر مر جائے۔میری اب یہ خواہش ہی نہیں رہی کہ وہ واپس