خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 271
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت مولوی نذیر احمد صاحب مبشر : 271 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء ان کا ذکر کرتے ہوئے (حضور) فرماتے ہیں: " آج کل گولڈ کوسٹ میں کام کر رہے ہیں، یہاں گو جماعتیں پہلے سے قائم ہیں مگر وہ اکیلے کئی ہزار کی جماعت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔پھر انکی قربانی اس لحاظ سے بھی خصوصیت رکھتی ہے کہ وہ آنریری طور پر کام کر رہے ہیں۔جماعت انکی کوئی مدد نہیں کرتی۔وہ بھی سات آٹھ سال سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے جدا ہیں بلکہ تبلیغ پر جانے کی وجہ سے وہ اپنی ( منکوحہ ) بیوی کا رخصتا نہ بھی نہیں کرا سکے، (الفضل یکم اکتو بر ۱۳۹۱ء) نکاح ہوا ہے اور رخصتانہ سے پہلے حکم آیا ہے کہ چلے جاؤ اور اٹھ کر نکل کھڑے ہوئے۔حکیم فضل الرحمن صاحب: آپ کے متعلق فرماتے ہیں حضرت خلیفہ امسیح الثانی: نو سال سے تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں۔انہوں نے شادی کی اور شادی کے تھوڑے عرصہ کے بعد ہی انہیں تبلیغ کے لئے بھجوا دیا گیا۔وہ ایک نوجوان اور چھوٹی عمر کی بیوی کو چھوڑ کر گئے تھے مگر اب وہ آئیں گے ، (ابھی آئے نہیں تھے نو سال تک ) تو انہیں ادھیڑ عمر کی بیوی ملے گی۔یہ قربانی کوئی معمولی قربانی نہیں ہے۔“ (الفضل یکم اکتوبر ۱۳۹۱ء) حکیم صاحب کو ہمیں بھی دیکھنے کی توفیق ملی۔وہاں افریقہ میں اس قدر مشکل حالات میں انہوں نے کام کیا کہ جب واپس آئے تو بہت کمزور اور بوڑھے ہو چکے تھے۔بچے جوان ہو گئے تھے، بیوی بوڑھی ہو چکی تھی۔وہ چند سال ہی یہاں آ کے زندہ رہے۔خدمت دین کرتے ہوئے ہی یہیں آ کر فوت ہوئے۔مولوی غلام حسین صاحب ایاز : یہ ملایا گئے۔انتہائی تکلیف کے حالات میں شروع میں ان کو کچھ گزارہ ملا بعد میں وہ بھی