خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 24
24 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالٰی ۲۶۹۱ تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت اس کڑی کا پہلا سلسلہ قریب کے زمانہ تک امیبا سمجھا جاتا تھا جو ایک چھوٹا سا تحصیلی نما جانور ہے، جس کا نہ سر ہے، نہ پیر، نہ آنکھ، نہ منہ نہ کان ، نہ دل، نہ دماغ مگر پھر بھی اس میں زندگی کی وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو زندگی میں ہونی چاہئیں اور اس سلسلے کی آخری کڑی انسان ہے کہ جس کے جسم کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ بھی اس ابتدائی جانوروں سے کہیں زیادہ پیچ دار اور پر اسرار ہوتا ہے۔یہ ارتقاء کا نظریہ جسے سب سے پہلے ڈارون Charles Darwin) نے ایک منظم اور مرتب صورت میں ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا اب سائنس کا ایسا ہی مسلمہ بن چکا ہے جیسا یہ امر کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے اور سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ڈارون کے بعد سے اب تک دلائل کا ایک ایسا انبوہ کثیر اس امر کے ثبوت میں مہیا ہو چکا ہے کہ سوائے اس کے کہ ان سے لاعلمی ہو یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لی جائیں حقیقت ارتقاء کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن باوجود اس کے کہ ڈارون (Charles Darwin) کے نظریہ ارتقاء سے سب اصولی پر متفق ہیں ڈارون کے نظریہ کی تفاصیل سے اکثر متفق نہیں۔یہ تو مانتے ہیں کہ ارتقاء ضرور ہوا ہے مگر یہ نہیں مانتے کہ بعینہ اسی طرح ہوا ہے جس طرح ڈارون کہتا ہے۔نئی تحقیقات سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی کئی تفصیلات غلط ثابت ہو چکی ہیں مگر ارتقاء کا نظریہ ہر روز اور زیادہ یقینی ، اور زیادہ یقینی طورة ہوتا چلا جاتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا قرآن کریم گزشتہ تاریک زمانوں کے قطعی مشاہدات اور خام خیالات کی تائید کرتا ہے اور وہی کہتا ہے جو نزول قرآن کے وقت اس بارے میں رائج الوقت تصور تھا یا اس کے برعکس تیرہ سو سال بعد ہونے والی سائنسی تحقیق کی تائید کرتا ہے۔میرے نزدیک تو یقینی طور پر قرآن کریم پیدائش انسانی کے بارہ میں جو نظریہ پیش کرتا ہے وہ اچانک پیدائش کا نظریہ نہیں بلکہ ارتقائی اور تدریجی پیدائش کا نظریہ ہے اور اپنی تفصیلات میں یہ بعض جگہ ڈارون ( Darwin) کی تائید کرتا ہے اور بعض جگہ ہالڈین (Haldane) کی کہیں یہ گریش (Grace) کے نظریہ پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے اور کہیں پر سان (-) ، نیگلے ( Naglee) اور آئمر (Imer) کو درست قرار دیتا ہے اور بعض ایسے امور بھی بیان کرتا ہے جن تک ابھی انسانی تحقیق نہیں پہنچ سکی اور وہ سائنسی پیشگوئیوں کے طور پر قرآن کریم میں موجود ہیں۔لیکن اس قرآنی نظریہ کو بیان کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ لفظ ارتقاء کی ایک